ابو بکرؓ کا انصاف اور عمر بن الخطاب

ختم نبوت کے مسلہ پر قائم ہونے والے مسلیمہ کذاب کے خلاف اسلام کے عظیم الشان معرکے میں حضرت عمر فاروقؓ کے بھائی حضرت زید بن خطاب ؓ بھی شہید ہوئے تھے جب لشکر اسلام واپس ہوکر مدینہ پہنچا تو حضرت عمرؓ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے جو اس لڑائی میں شریک تھے فرمایا : کیا بات ہے تمہارے چچا تو اس لڑائی میں شریک ہوں اور تم زندہ رہو،تم زید ؓ سے پہلے کیوں نہ مارے گئے ؟

کیا تمہیں شوق شہادت نہ تھا ؟ جناب عبداﷲ ؓ نے عرض کیا ، چچا جان اور میں نے حق تعالیٰ سے شہادت کی دعا اکٹھے مانگی تھی ، ان کی دعا قبول ہوئی اور میں اس شہادت سے محروم رہا ، حالانکہ میں نے دعا میں کمی نہ کی تھی۔
٭قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک عیسائی کو قتل کردیا ، حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ قاتل کو مقتول کے ورثہ کے سپرد کردو ۔ چنانچہ وہ قاتل جو مسلمان تھا ، مقتول کے وارث حنین کے سپرد کردیا گیا، اس نے اسے اپنے عزیز کے بدلے قتل کردیا ۔ ٭ ایک معاملے میں حضرت عمر ؓ ایک فریق تھے ،ان کا ایک لڑکا عاصم مطلقہ بیوی سے تھا ، لیکن انہوں نے کافی عرصہ تک اس بچے کی خبر نہ لی تھی اور وہ اپنی والدہ ہی کے پاس تھا ۔ ایک دن حضرت عمرؓ کو موضع جتا جانے کا اتفاق ہوا ، جہاں انہوں نے مسجد کے قریب ہی بچے کو دیکھ لیا محبت پدری سے مجبور ہوکر انہوں نے لڑکے کو اٹھا لیا اور اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہا ، اسی اثناء میں لڑکے کی نانی جس نے اس بچے کی پرورش کی تھی آگئی اور جھگڑا کرنے لگی ، دونوں فریق حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں پہنچے اور دونوں نے بچے کی تولیت کا دعویٰ کیا۔ خلیفہ نے فریقین کی بات سن کر نابالغ بچے کی بہبود کی خاطر فیصلہ حضرت عمرؓ کے خلاف دے کر بچے کو نانی کو سپرد کر دیا۔

%d bloggers like this: