اچھا نصیب – زیمل چوہدری

ایک بار میں نے اپنی کسی دوست سے پوچھا کہ اگر ُاسے مجھے کوئی دعا دینے کا موقع ملے تو وہ مجھے کونسی دعا دے گی؟ تو ُاس نے کہا کہ امی کہتی ہیں کہ لڑکیوں کو ہمیشہ انکے اچھے نصیب کی دعا دینی چاہیے تو میں بھی تمہیں یہی دعا دوں گی۔ میں سن کے خاموش ہو گئی۔ شاید تب میں اچھے نصیب کی اہمیت سے ناواقف تھی۔تب میری دعاو?ں میں صرف اچھی پڑھائی اور اچھی جاب کا ذکر ہوتا تھا۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا جب ہمارے پاس اچھی ڈگری اور اچھی جاب ہو تو نصیب خود بہ خود ہی اچھا بن جاتا ہیلیکن میں غلط تھی۔وقت گزرتا گیا، بچپنا لڑکپن کے پیچھے کہیں چھپ گیا اور لڑکپن سے جوانی کی عمر آ پہنچی۔ یہ وہ عمر تھی جب میں نے اچھے نصیب کو صحیح معنوں میں سمجھا تھا۔

ہم اچھی ڈگری، اچھی جاب حاصل کر کے بھی اچھے نصیب سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ نصیب ان میں سے کسی بھی چیز کا محتاج نہیں ہوتا۔ میری ایک جاننے والی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ اسکی شادی بہت دھوم، دھام سے ہوئی تھی۔ ُاسکا جہیز دیکھ کے لوگ حیران ہوئے تھے۔ آسائش کی ہر چیز اسکے جہیز میں شامل تھی لیکن شادی کے پہلے سال ہی وہ بیوہ ہو کے اپنے والدین کے گھر آبیٹھی تھی۔ وہ تمام آسائشیں بھی اسکا نصیب سنوار نہیں سکی تھیں۔ہماری ایک ٹیچر گولڈ میڈلسٹ اور کالج میں پروفیسر تھیں۔ انکو دیکھ کے لگتا تھا کہ اللہ پاک نے انہیں بڑی فرصت سے بنایا تھا۔ صاحبِ اولاد تھیں اور انکی ازدواجی زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی لیکن کچھ عرصے بعد انکے میاں نے دوسری شادی کر لی تھی اور وہ اپنے میاں کی بے وفائی برداشت نہیں کر پائیں، ڈپریشن میں چلی گئیں۔میری ایک دوست نے اپنی فیلڈ میں بہت نام کمایا۔ وہ بھی اپنے مضمون میں گولڈ میڈلسٹ تھی لیکن اسکی بھی ازدواجی زندگی کامیاب نہ ہو سکی۔ شادی کے سال بعد طلاق لے کے واپس آگئی تھی۔میری ایک جاننے والی شادی کی عمر کو پہنچ چکی تھی لیکن کوئی رشتہ پسند نہیں آ رہا تھا ۔اور وقت گزر رہا تھا پھر اسکی شادی ایک ایسے مرد سے ہو گئی جو پہلے سے شادی شدہ تھا لیکن کسی وجہ سے اپنی بیوی سے علحیدگی ہو گئی تھی۔ لوگوں نے ُاس رشتے کے بارے میں بھی اپنی قیاس آرائی سے باز نہیں آئے تھے لیکن الحمدللہ وہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔

میری کئی جاننے والیاں جن میں شاید کوئی کمی نظر نہیں آتی ہو گی لیکن وہ اپنی ازدواجی زندگی میں ناخوش نظر آتی ہیں۔ اچھی شکل و صورت، اچھا خاندان، تعلیم، نوکری، روپے پیسہ کوئی بھی چیز انکے نصیب کو بدل نہیں سکی۔ کیونکہ نصیب ان میں سے کسی بھی چیز کا محتاج نہیں ہوتا۔اتنے سال گزرنے کے بعد ہاں آج میں اچھے نصیب کے لفظ سے آشنا ہو گئی ہوں۔ کسی نے سچ کہا تھا کہ لڑکی کے لئے اچھے نصیب سے بڑی دعا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ اچھا نصیب نہ تو ہماری اچھی شکل و صورت کو دیکھتا ہیاور نہ ہی ہماری تعلیمی اسناد کو۔ نہ ہماری اچھی نوکری کو اور نہ ہی ہمارے مال و دولت کو۔ یہ تو اللہ پاک کی َدین ہے ِجسے چاہے جتنا دے دے۔ لیکن اس نے ہمارے لئے دعا کا در ہمیشہ کھول رکھا ہے پر شاید ہم میں سے بہت ہی کم لوگ اپنے لئے اچھا نصیب مانگتے ہیں۔اب میں جب بھی کسی کی گھر بیٹی پیدا ہونے کی خبر سنوں تو انکو اچھے نصیب کی دعا ضرور دیتی ہوں۔

جب کبھی سڑک پہ پھولوں سے سجی گاڑی دیکھوں تو اس لڑکی کا سوچتے ہوئے دل سے اچھے نصیب کی دعا نکلتی ہے۔ جب بھی کسی کی شادی کی خبر ملتی ہے لبوں سے ہمیشہ اچھے نصیب کی دعا ہی نکلتی ہے۔ آپ جب بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں اپنے لئے، اپنی بیٹی، بہن، دوست یا کوئی بھی لڑکی جس سے آپکا بلواسطہ یا بالواسطہ تعلق ہے اسے اپنی نیک دعاو?ں میں ضرور یاد رکھیں۔ اللہ پاک سبکی بیٹیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ سب کے نصیب بہت اچھے کریں۔ مجھے بھی اپنی دعاو?ں میں ضرور یاد رکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: