جاسوسی کا انجام قتل

ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مشرکین میں سے ایک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا. اس وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا ہوا تھا. وہ جاسوس مسلمانوں کے ساتھ باتیں کرتا رہا ،پھر کھانا وغیرہ کھا کر چپکے سے کھسک گیا ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے تلاش کر کے قتل کر ڈالو ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنتے ہی لوگ جاسوس کے پیچھے دوڑ پڑے۔ میرے والد سلمہ نے دوڑ کر سب سے پہلے اس کی اونٹنی کی لگام جا کر پکڑی اور اسے موقع ہی پرقتل کردیا ، چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جاسوس کا ساز و سامان میرے والد سلمہ بن اکوع کو بطور تحفہ دیا ۔ 

حضرت سلمان بن اکوع ا سلمی رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت رضوان ان حدیبیہ کے موقع پر دو بار بیعت کی ۔ یہ غزوہ دی قرد سمیت سات غزوات میں شریک ہوئے ۔ابن اسحاق کے بقول ان سے بھیڑیا ہمکلام ہوا تھا ۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ مدینے میں مقیم رہے اور عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد ربذہ منتقل ہوگئے ۔انہوں نے نے 74 ہجری میں انتقال فرمایا 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: