اللہ کا فیصلہ

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ابی بن خلف نے مکہ مکرمہ میں یہ قسم کھا رکھی تھی کے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لازماََ من قتل کرے گا۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قسم کے بارے میں علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ اللہ نے چاہا تو میں ہی اسے قتل کروں گا ۔

چنانچہ  غزوہ احد کے دن ابی بن خلف سر سے پاؤں تک لوہے کا لباس پہن کر میدان میں اترا ،وہ کہہ رہا تھا:آج اگر میں بچ گیا تو وہ ہمت نہیں بچ سکیں گے۔

پھر اس نے ایک ایک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر دیا ادھر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگےآہنی دیوار بن کر کھڑے ہوگئےاور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقابلہ کرتے رہے۔ ہے مگر ان کے جسم پر اتنے زخم لگے کہ وہ شہید ہوگئے۔اس اثنا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود  اور زرہ کے درمیان ہنسلی دیکھی اور نیزہ گھونپ دیا ۔ ابی بن خلف اپنے گھوڑے سے نیچے زمین پر گر پڑا ۔ نیزے کی ضرب سے اس کی ہنسلی کو معمولی خراش آئی اور خون بھی نہ نکلا ۔ پھر اس کے ساتھی اس کے پاس آئے اور اس کو اٹھا کر لے گئے ۔ وہ بیل کی طرح زور زور سے ڈ کرا رہا تھا ۔ اس کے ساتھیوں نے کہا :

:کس خوف سے تم اس طرح ٹکرا رہے ہو یہ تو معمولی سی اخراج ہے وہ ساتھیوں سے کہنے لگا

قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۱ اگر یہ تکلیف اہل ذی المجاز کو پہنچتی جس سے میں ابھی دو چار ہوں تو وہ تمام کے تمام موت کے گھاٹ اتر جاتے۔ 

سیرت کی بعض کتابوں میں یہ بھی آیا ہوا ہے کہ جب ابی بن خلف کے ساتھیوں نے اس سے کہا کہ تم اس قدر زیادہ اویلا کیوں کر رہے ہو جب کہ تمہیں معمولی سا زخم پہنچا ہے۔ تو اس نے ساتھیوں سے کہا: ہاں تم لوگوں کو یاد نہیں ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قتل کرنے کے بعد کہی تھی۔ 

اللہ کی قسم۱ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے اوپر تھوک بھی دیتے تو میں مر جاتا ۔

پھر وہ اللہ کا دشمن مقام صرف مکہ کے قریب ایک جگہ  جہنم رسید ہو گیا ۔ اللہ کا یہ دشمن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا عزم اور ارادہ رکھتا تھا جبکہ اللہ تعالی نے اس کے بارے میں پہلے ہی فیصلہ کر دیا تھا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں قتل ہو گا ۔ چنانچہ یہ اپنے برے انجام کو پہنچا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: