ایک بچے کا واقعہ

ایک بچے نے اپنے دوست سے بات کی کہ میں حج کرنے جا رہا ہوں۔ اس نے پوچھا کیا تمہارے پاس پیسے ہیں؟ کہنے لگا نہیں، پھر پوچھا، کیا تم نے درخواست دے دی؟ کہتا ہے معلوم نہیں، کیا تم نے پاسپورٹ بنوا لیا؟ کہتا ہے معلوم نہیں، کیا تمہیں حج کا طریقہ آتا ہے؟ کہتا ہے نہیں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اپنے لئے ہوٹل بُک کیا؟ کہتا ہے معلوم نہیں، اس نے پوچھا کیا تم نے ٹکٹ بنوا لیا ہے؟

کہتا ہے نہیں، جب ہر سوال کے جواب میں اس نے نہیں کہا، تو اس کے ساتھی نے حیران ہو کر کہا کہ پھر حج کیلئے کیسے جا رہے ہو؟ تو اس بچے نے مسکرا کر کہا: “میں اپنے ابّو کے ساتھ حج کیلئے جا رہا ہوں، اب اس کے اس ایک فقرے میں ہر بات کا جواب آ گیا، کہ جب میں اپنے ابّو کے ساتھ ہوں۔ تو میرے ابّو میری ہر ضرورت پوری کریں گے، نظم و نسق کریں گے، مجھے فکر کی ضرورت نہیں۔”

خلاصہ یہ کہ جو سرپرست ہوتا ہے، وہ ہر چیز کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی طرح اللّٰه تعالیٰ بھی نیکوکاروں کا سرپرست ہے، جو بندہ بھی گناہوں کو چھوڑ کر نیکی کی راہ اپناتا ہے، نیکوکاری کی زندگی گزارتا ہے، اللّٰه رب العزت اس کے نگراں و نگہبان اور سرپرست بن جاتے ہیں، اس کے کاموں کو سنوار دیتے ہیں، اس کو مسائل میں الجھنے سے بچا کر پریشانیوں سے نکلنے کا راستہ ہموار کر دیتے ہیں، ذلت کے کاموں میں اس کیلئے عزت نکال دیتے ہیں، اللّٰه رب العزت اس بندے کی ہر طرح حفاظت فرماتے ہیں۔ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم گناہوں سے جان چھڑا کر نیکوکاری کی زندگی اپنائیں، اور نیک بندوں میں شامل ہو جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: