ایک مشرک رسول اللہﷺ کا واقعہ

ایک مشرک رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بڑی بدتمیزی سے بولا (یا) محمد (ﷺ) آپ ﷺ نے اسکی طرف دیکھا اور فرمایا جی بولیےاس نے کہا مجھے تیری 3 باتیں سمجھ نہیں آتیں 1،،تو(ﷺ) کہتا ہے کہ سارا عرب میرا کلمہ پڑھے گا 2 ، تو(ﷺ)کہتا ہے کہ قیصر و کسریٰ جیسی عظیم سلطنت فتح ہونگی ،یہاں تو کھانے کو روٹی نہیں 3

، تو(ﷺ) کہتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے یہ کیسے ممکن ہے آپﷺ نے اسکی باتیں سُنیں اور مُسکراکر بولے اُمید ہے کہ تیری زندگی لمبی ہوگی) رسول اللہﷺ کی امید دراصل یقین ہوتا تھا یقیناً سارا عرب میرا کلمہ پڑھے گا یقیناًقیصر و کسریٰ فتح ہونگے تو دیکھے گااور یقیناً بروز قیامت میں تیرا ہاتھ پکڑ کر بولوں گاکہ کیا یہ سچ نہیں ؟ وہ بولامیں نہیں مانتااور چلا گیا جب مکہ فتح ہوا لوگوں نے کہا کہ ایک بات تو ہوگئی اس نے کلمہ نہیں پڑھا جب حضرت عمرؓ کا دور خلافت آیا اور ایران فتح ہوا یہ مزدوری کر رہا تھا،،،اپنا اوزار اُٹھا کر مکہ چل پڑا اس نے کلمہ پڑھ لیا یہ شخص بے حد مسکین اور غریب تھا جب بھی یہ شخص مسجد میں آتا امیر المومنین حضرت عمر بن خطابؓ اسکے احترام میں کھڑے ہوجاتے لوگوں نے کہا کہ آپ ایسے معمولی شخص کو اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں تب حضرت عمرؓ نے فرمایاکہ جب یہ پہلی مرتبہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا تھا میں اس مجلس میں موجود تھا آپﷺ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا کہ میدانِ محشر میں میں تیرا ہاتھ پکڑ کر پوچھوں گا کہ کیا یہ سچ نہیں ہے میرے ماں باپ میرے نبیﷺ پر قربان جسکا آپﷺ قیامت کے دن ہاتھ پکڑ لیں اور اتنا قریب ہو وہ جنتی ہی ہوسکتا ہے یہ کہ کر امیر المومنین عمر بن خطابؓ بے اختیا رو دئیے صحیح بخاری ،،،صحیح مسلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: