غصے کا حل

ایک آدمی کو غصہ بہت آتا تھا۔ غصے میں بے قابو ہو کر وہ برا بھلا کہتا، جب غصہ اُترتا تو اسے پشیمانی ہوتی۔ وہ غصے پر قابو پانا چاہتا تھا، لیکن کامیاب نہ ہوتا۔ ایک دن اس نے سُنا کہ دوسرے گاؤں میں ایک عالم رہتا ہے، لوگوں کو مسئلوں کے حل بتاتا ھے۔ اس نے سوچا چلو! میں بھی اپنا مسئلہ پیش کر کے دیکھتا ہوں۔ شاید کچھ تدبیر نکل آئے، وہ اس عالم کے پاس گیا اور اُن کو بتایا: “مجھے بے حد غصہ آتا ہے”۔ عالم نے کہا: “جب تمہیں غصہ آئے تو تم جنگل میں جا کر درخت میں ایک کیل ٹھونک دیا کرو”۔

آدمی نے کہا: “یہ کونسا حل ھے؟” عالم نے کہا: “تم ایسا کرو تو سہی”۔ آخر اس نے یہی کیا! اسے جب بھی غصہ آتا۔ وہ جنگل کی طرف دوڑتا اور تیزی سے کیلیں درخت میں ٹھونکتا جاتا، آخر دن گزرتے گئے۔ اسے جب غصہ آتا، وہ یہی عمل دہراتا۔ آخر ایک دن اس کا غصہ کم ہو کر ختم ہو گیا اور اس نے جنگل جانا چھوڑ دیا۔ ایک دن وہ دوبارہ عالم کے پاس گیا اور کہا:”آپ کی بات پر عمل کر کے میرا غصہ ختم ہو گیا ھے”۔ عالم نے کہا:”مجھے اس جگہ پر لے چلو، جہاں تم نے کیلیں ٹھونکی ہیں”۔ وہ دونوں وہاں چلے گئے، عالم نے دیکھا کہ ایک درخت تقریباً آدھا کیلوں سے بھرا پڑا ھے۔

عالم نے کہا:”اب ان کیلوں کو نکالو”۔ اس نے بہت مشکل سے وہ کیلیں نکال لیں تو دیکھا کہ وہاں چھوٹے بڑے بے شمار سوراخ تھے۔ عالم نے کہا:”یہ وہ سوراخ ہیں، جو تم غصے میں آ کر لوگوں کے دلوں میں کرتے تھے۔ دیکھو کیل تو نکل گئے، مگر سوراخ باقی ہیں”۔ وہ شخص بہت شرمندہ ہوا۔ اس نے اللّٰه اور اس کے بندوں سے معافی مانگی اور عالم کا شکریہ ادا کیا، جس نے اسے آئینہ دکھایا۔ سبق: ہمیں بھی چاہیے کہ بولتے وقت دیکھ لیا کریں کہ ہم نے لوگوں کے دلوں میں کہیں کیلیں تو نہیں ٹھونک رہے ہیں۔ اگر وہ کیلیں نکل بھی گئیں تو نشان باقی رہ جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: