زندگی سے مایوس تھا

میں ایک دن خدا سے ہی لڑ پڑا ۔ کیونکہ میں مایوس ہو چکا تھا زندگی سے . رو رو کر مانگ رہا تھا جو دعائیں وہ قبول ہو ہی نہیں رہی تھی … پھر یاد آیا جب ۸۰ (80) سال کی عمر میں حضرتِ ابراہیم کو فرزند یعنی حضرتِ اسماعیل کی بشارت دی گئی تو ابراہیم کہنے لگے بھلا اس عمر میں تم لوگ مجھے بیٹے کی پیدائش کا کہہ رہے ؟؟ فرشتے کہنے لگے۔ کیا تمہیں خدا پہ امید نہیں ؟؟ مسکرا کر جوابً ابراہیم کہنے لگے .. بھلا کوئی اس کی رحمت سے مایوس ہو سکتا ہے ! ہاں لیکن وہ جو گمراہ ہو یہ واقعہ یاد آ کر میں نے مؤقف بدل کر کہا میں مایوس نہیں مگر تھک گیا ہوں میں خدا کو پیٹھ دکھا کر جانے لگا تو خدا مسکرا کر کہنے لگا : وَاَنّاَ اِلَا رَبِّکَ الْمُنْتَہَا جا میرے بندے لیکن یاد رکھ تمہیں آ خر آنا میرے پاس ہی ہے ۔۔۔!! لیکن تو جو منہ چھپا چھپا کر کفن میں آؤ گے تو میری مان کھلے منہ میری طرف چلے آنا ۔

جو لوگ اٹھا کر لائیں تو میری مان اپنے قدموں سے میری طرف چلے آنا ۔۔ میں چونک گیا ۔۔۔ خدا پھر کہنے لگا بندا کیا تجھے یاد نہیں روز پانچ بار پکارتا تھا “حَیَّ الصَّلاۃ” آؤ میری طرف !! کیا تو میری طرف آتا تھا ؟؟ کیا تو دیکھتا نہیں خالق اور با اختیار ہو کر میں تمہیں بلاتا ہوں یَا اَیُّھا الْاَنْسَانْ مَا غَرَّقَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْم او بھاگے ہوئے انسان !! تجھے کس چیز نے اپنے رب سے دور کیا ہوا ہے اور رب بھی وہ جو بڑا ہی کریم ہے خدا کہنے لگا کیا میری محبوب کی حدیث تجھے یاد نہیں اَلْدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤمِنِینَ وَ جَنَّت الْکَافِرْ “دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے ” میرا محبوب بتا بھی چکا ہے کہ یہ دنیا تمہارے لیے نہیں تمہارے لیے تو ایک بہترین دنیا راہ دیکھ رہی ہے ۔۔۔ بندہ میں تجھے دینا کیا چاہ رہا ہوں اور تو میرے سے لڑائی کر کس دنیا کے لیے رہا ہے ۔

یہ زندگی صبر و شکر سے کسی طریقے گزار تو سہی ۔۔ میں پلٹ کر خدا کے قدموں میں گر کر خوب رونے لگا خدا مخاطب کر کے پھر کہنے لگے بندہ میں تو وہی ہوں جو تیرے بڑوں کے ایک پکار پہ لبیک کہہ دیتا ۔۔۔ آج جو لبیک نہیں کہہ رہا تو اس لیے کہ تو باغی ہو گیا ہے ۔۔ تو رب تو مجھے مانتا ہے لیکن یقین نہیں کر رہا کہ جو میں کر رہا ہوں تمہارے ہی فائدے کے لیے کر رہا ہوں ۔۔ تو مجھے رب تو مانتا ہے لیکن میری نا فرمانی نہیں چھوڑتا ۔۔ تو رب تو مانتا ہے لیکن ایک نا محرم کے لیے مجھے چھوڑ کے چلا جاتا ہے کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم میں تم میں بھی راہ تھی کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں – اس دنیا میں صبر سے زندگی گزاریں ہمیشہ کی کامیابی آپ کا مقدر بنے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: