روزِ محشر

روزِ محشر سب سے پہلے حضرت جبریل و حضرت میکائیل علیہما السّلام زمین پر تشریف لائیں گے۔ ابھی کوئی بھی اپنی قبُور سے باہر نہیں آیا ہو گا۔ ان کے پاس براق اور پوشاک اور تاج ہو گا جو ہمارے آقا و مولٰی حضرت محمد مُصطفٰی صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے لیے لائیں گے۔ لیکن اس دِن کی ہولناکی سے ایسے گھبرائے ہوں گے کہ انہیں معلوم نہ ہو سکے گا کہ روضہ رسولِ اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کہاں ہے۔ زمین سے پوچھیں گے تو زمین کہے گی میں خود گھبراہٹ میں ہوں مجھ سے نہ پوچھو مجھے اب یہ خبر نہیں کہ میرے اندر کیا ہے اور کون ہے اور کہاں ہے۔ جبریل علیہ السّلام مشرق و مغرب کا کونہ کونہ چھان ڈالیں گے لیکن کچھ معلوم نہ ہو سکے گا۔ اچانک دیکھیں گے کہ خواب گاہِ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم سے انوار چمک رہے ہیں۔ وہاں جبریل علیہ السّلام پہنچیں گے تو دیکھینگے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم مزار ( مُبارک ) سے باہر رونق افروز ہیں۔ چنانچہ خود فرمایا.

أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ۔ ” میں پہلا وہ ہوں کہ جس سے زمین پھٹے گی۔ ” ( مشکوٰۃ شریف،جِلد ٥،حدیث:۳۴۳ ) جبریل علیہ السّلام کو دیکھ کر حضور سرورِ عالم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے ” اے جبریل ( علیہ السّلام )! میری اُمّت کا کیا حال ہے؟ ” عرض کریں گے….. ” حضور ( صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم )! آپ زمین سے باہر ہیں اور وہ ابھی زمین میں ہیں۔آپ پوشاک پہنیے تاج سر پر زیب فرمائیے اور براق پر سوار ہوں کمرِ شفاعت باندھ کر میدانِ حشر میں تشریف لے چلیے اُمّت بھی آ جائی گی۔ ” حضور سرورِ کونین صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم میدانِ حشر میں پہنچتے ہی سربسجود ہو جائیں گے۔اللّٰه تعالٰی کی حمد و ثناء کریں گے۔حق سے نِدا آئے گی…. ” اے حبیب ( صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم )! آج کا دِن خدمت ( یعنی عِبادت ) کا نہیں بلکہ عطاء و نعمت کا دِن ہے۔سجود کا دِن نہیں سخا و جود کا دِن ہے۔سر اُٹھا سرور ( صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم ) اور شفاعت کا سہرا تیرے گلے میں ہے۔تُو کہتا جا میں چھوڑتا جاؤں۔اِس لیے کہ تُو نے دُنیا میں وہ کر دِکھلایا جو میں نے کہا،آج ہم آپ کو وہی دیں گے جو آپ چاہیں گے۔تجھے تیرا ربّ وہ دے گا کہ تُو راضی ہو جائے گا۔ ” ( تفسِیر رُوح البیان … پارہ:۲۶،جِلد ۱۰ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: