حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ہجرت کا حکم دیا گیا تب آپ حضرت ابو بکر کو لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور راہ میں کفار سے بچنے کے لیے ایک غار میں چھپ گئے .ادھر جب کفار کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ چھوڑنے کا یقین ہوا انھیں تلاش کرنے کے لیے اپنے لوگ ہر طرف بکھیر دئیے کچھ کفار انکا راکب کرتے ہوئے.

اس غار تک آ پہنچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مطمئن تھے مگر ابو بکر صدیق پہ خوف طاری ہوگیا اور آپ سے کہنے لگے یا رسول اگر کفار اپنے پاؤں کی طرف دیکھ لیں تو وہ ہمیں ڈھونڈلیں گے تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں تسلی دی تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جنکا تیسرا خدا ہو تم غم نا کر اللہ ہمارے ساتھ ہے یہ محض الفاظ نہیں تھے بلکہ تسلی تھی ایک دوست کی دوسرے دوست کو ،، اور خود کو اس بات کا یقین دلانا کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے نا … وہ راستہ بنائے گا چاہے جیسے مشکل حالات ہوں .

چاہے جیسی تکلیف ہو زندگی میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں لگتا ہم کسی تنگ غار میں ہیں پکڑے جانے کا خوف یا مارے جانے کا … یا کوئی بھی درد .. تب انسان کا یہ کہہ دینا کافی ہوجاتا ہے انسان کو اپنے آپ کو بتانا چاہیے کہ غم کاہے کا اللہ ہمارے ساتھ ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: