اے خلیفہ الرسول آپ اتنا کیوں رو ئے

خلیفہ الرسول حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کو ایک دفعہ پینے کے لیے پانی دیا گیا جس میں تھوڑا سا شہد ڈالا ہوا تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جونہی پیالہ اپنے منہ کے قریب کیا تو رونے لگ گئے اور اس قدر روئے کہ آس پاس والے بھی رونے لگ گئے لیکن کسی کو سبب پوچھنے کی جراءت نہ ہوئی ۔

آخر جب کافی دیر رونے کے بعد طبیعت ہلکی ہوئی تو کسی نے پوچھا ، اے خلیفہ الرسول آپ اتنا کیوں روئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا شہد ملے پانی کو دیکھ کر مجھے ایک بات یاد آگئی ، میں اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں سے کسی چیز کو پرے ہٹا رہے ہیں ، مجھے کچھ بھی نظر نہ آیا تو میں نے پوچھ لیا ۔ یا رسول اللہُ صلی اللہُ علیہ وسلم آپ کس چیز کو پرے کر رہے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہُ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر دنیا میرے پاس آئی تھی اور میں اس کو دفع کر رہا تھا کہ مجھ سے دور ہو جاؤ تیرا میرے پاس کوئی کام نہیں ۔

اور دنیا نے مجھے جواب دیا کہ آپ مجھے لینے والے نہیں ہیں لیکن آپ کے بعد آنے والے لوگ مجھ سے نہیں بچ سکتے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے فرمایا کہ مجھے وہ واقعہ یاد کرکے رونا آگیا اور شہد ملا پانی پینا مشکل ہوگیا کہ کہیں اسے پی کر میں اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہُ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ نہ جاؤں اور دنیا مجھ سے چمٹ نہ جائے فِدَاکَ اَبِیْ وَاُمِّیْ وَرُوْحِیْ وَقَلْبِیْ عَلـٰی رَسُوْلُ اللّٰه ﷺ (حلیہ الاولیا 30/1 ۔ حیاتہ الصحابہ 360/2 )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: