دومسافر

” دومسافر ” رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص مکھی کی وجہ سے جہنم میں چلا گیا اور ایک جنت میں چلاگیا،لوگ بڑے حیران ہوئے کہ مکھی کی وجہ سے بھی کوئی جنت اور جہنم کی راہ پاسکتاہے، عرض کرنےلگے: اے ﷲ کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم کیسے؟

پیارے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: دو شخص سفر میں جا رہے تھے اور چلتے چلتے وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں ایک بت پرست قوم رہتی تھی اور وہ بت پرست قوم تب تک کسی مسافر کو آگے نہیں جانے دیتی تھی جب تک وہ ان کے بتوں پر کوئی چڑھاوا نہ چڑھا دیتے جب یہ دونوں مسافر پہنچے تو ان دونوں کو روک لیاگیا اس قوم کے لوگوں نے ان سے کہا تم بھی ہمارے بت پر کوئی چڑھاوا چڑھاو انھوں نے یہ کہا صورتحال دیکھ کر ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے ہم خالی ہاتھ ہیں نہ ہمارے ہاتھ کوئی درہم ہیں نہ دینار ہے اور نہ ہی کچھ کھانے پینے کا سامان ہم اس بت پر کوئی چڑھاوا نہیں چڑھاسکتے بت پرست قوم نے کہا یہ نہیں ہوسکتا کہ تم اس بت پر بغیر کچھ ديےگزرجاؤ اگر تم ایسے مفلس ہو تو ایک ایک مکھی پکڑو اور اس کو ہمارے بت کے نام پر مار دو پہلے مسافر نے کہا یہ کونسی مشکل بات ہے فورًا ایک مکھی پکڑی اور اسے بت کے نام پر مار دیا ۔

اور اپنی جان بچالی لیکن اس آدمی کو ﷲ نے جہنم میں پھینک دیا کیونکہ وہ مکھی ﷲ کی مخلوق تھی اور غیرﷲ کے لیے مار دی گئی تھی اب دوسرے مسافر کی باری آتی ہے تواس نے کہا میں کبھی بھی ایسا نہیں کرسکتا کہ ﷲ کی مخلوق کو کسی اور کے نام پر ماروں چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے اس مسافر کو ان لوگوں نے مار ڈالا اور اسے جنت مل گئی صرف اس بنا پر کہ اس نے جان دینا گوراہ کرلیا لیکن ﷲ کے علاوہ کسی اور کے نام پر کوئی چڑھاوا نہیں چڑھایا۔ (مسند احمد، کتاب الزھد:۳۳، رقم:۷۵)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: