ہرن اور ایک دیوانے کی ملاقات

” ہرن اور ایک دیوانے کی ملاقات ” ایک دیوانہ دُنیا سے تنگ آ کر جنگل میں جا بسا۔اس کی ایک ہرن سے دوستی ہو گئی۔اس نے دیکھا کہ وہ ہرن بھاگا بھاگا دِن رات پِھرا رہتا ہے نہ دِن کو آرام کرتا ہے نہ رات کو۔ایک دِن اس نے ہرن سے پوچھا کہ: ” میں نے تجھے کبھی رات کو سوتے اور دِن کو آرام کرتے نہیں دیکھا۔تُو کس حال مُبتلا ہے؟

” ہرن نے جواب دیا: ” ﷲ نے میرے اندر مُشک رکھا ہُوا ہے۔میں اس مُشک کی مہک کے خمار میں شب و روز مست رہتا ہوں۔نہ مجھے نیند آتی ہے نہ تھکتا ہوں۔نافہ کی بھینی بھینی خوشبو میرے تن من میں اس قدر سرایت کر چُکی ہے کہ میں اس کے نشے میں مدہوش رہتا ہوں۔” پِھر اس ہرن نے اپنے دوست دیوانے سے پوچھا کہ: ” یہ بات جو تم نے مجھ سے پوچھی ہے کئی دِن ہوئے میں تجھ سے پوچھنے کو تھا،تُو کہتا ہے کہ تُو ﷲ کی یاد کے لیے بستی سے جنگل میں آیا،تُو ﷲ ﷲ تو کرتا ہے لیکن ﷲ کی جُستُجُو میں دیوانہ وار نہیں پِھرتا۔ہرن نے دیوانے سے کہا! میرے اندر مُشک ہے۔

اور تیرے اندر ﷲ،میں مُشک کے نشے میں مدہوش رہتا ہوں اور تجھے ﷲ کا پتہ ہی نہیں۔دِیدار کی تمنّا کا شوق تجھے ﷲ کی ملاقات پر مجبور کیوں نہیں کرتا؟ تم اس کی جُدائی میں بے چین کیوں نہیں رہتے؟” ہرن کی یہ ملاقات کایہ پلٹ ثابت ہوئی۔ ( مقالاتِ حِکمت،جِلد اوّل،صفحہ: ٣٥٦،٣٥۷ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: