مدینہ سے مصر تک کا سفر

مسلمة بن مخلد رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دن دربان آ کر کہنے لگا کہ : ایک اعرابی آیا ہے اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے؟ اندر آنے کی اجازت پر اس اعرابی نے کہا کہ : ” میں صرف اِس لیے آپکے پاس آیا ہوں کہ آپ مومن کی پردہ پوشی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث بیان فرماتے ہیں، میں وہ حدیث سننے آیا ہوں .

” مسلمة بن مخلد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا وہ ایسا ہے کہ گویا کسی زندہ دفن کی گئی لڑکی کو بچایا . یہ حدیث سن کر وہ اعرابی اونٹ پر واپس روانہ ہو گیا . وہ اعرابی جابر بن عبداللہ الأنصاري رضی اللہ عنہ تھے۔

جو مدینہ سے مصر تک کا سفر کر کے مسلمة بن مخلد رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس سے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سننے گئے تھے. (المعجم الأوسط للطبراني : 8/114، مجمع الزوائد : 1/139، الترغيب والترهيب : 3/240، المتجر الرابح : 280)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: