سخاوتِ اِمام حُسین رضی ﷲ عنہُ

” سخاوتِ اِمام حُسین رضی ﷲ عنہُ ” اِمام عالی مقام حضرت اِمام حُسین رضی ﷲ عنہُ کے مکانِ عالی شان پر ایک فقیر مدینہ پاک کی گلیوں سے ہوتا ہُوا پہنچا تو دروازے پر دستک دی اور اشعار کی صورت میں کہنے لگا: ” جس نے آپؓ سے اُمید رکھی اور جس نے آپؓ کے دروازے پر دستک دی وہ کبھی نااُمید نہیں ہُوا،آپؓ صاحبِ جُود و کرم بلکہ جُود و سخاوت کے چشمے ہیں۔” آپ رضی ﷲ عنہُ گھر میں نماز پڑھ رہے تھے ( نماز ادا فرما کر ) دروازے پر تشریف لائے تو دیکھا سامنے ایک دیہاتی کھڑا ہے جس کی شکل غُربت اور بُھوک کا اعلان کر رہی تھی۔

آپ رضی ﷲ عنہُ نے اپنے غلام ” قَنبَر ” سے فرمایا: ” ہمارے خرچ سے کتنا مال بچا ہُوا ہے؟” عرض کی: ” دو سو درھم ہیں جو آپؓ کے حُکم کے مطابق آپؓ کے اہلِ خانہ پر خرچ کرنے ہیں۔” فرمایا: ” جاؤ! سب لے آؤ کیونکہ وہ شخص آیا ہے جو میرے گھر والوں سے زیادہ ان درھموں کا حق دار ہے۔” چنانچہ وہ درھم اُس فقیر کو دیے اور فرمایا: ” یہ لے لو اور ان کے کم ہونے پر میں تم سے معافی چاہتا ہوں،ہمیں ہر حال میں مہربانی ہی کا حُکم ہے،یہ کم ہیں اگر اور زیادہ ہوتے تو وہ بھی تمہیں دے دیتا۔” فقیر نے درھم لیے اور آپ رضی ﷲ عنہُ کو دُعائیں دیتا اور تعریفیں کرتا ہُوا خوشی خوشی رُخصت ہو گیا۔ ( اِبنِ عساکر،جِلد: ١۴،صفحہ: ١٨٥

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: