ایمان کی دولت

” کہتے ہیں ایک بُزُرگ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک پہنچے تو اُن کے مُرِید اُن کے بِستر کے پاس جمع ہو کر اُنہیں کلمہ طیبہ کی تلقین کرنے لگے۔بُزُرگ نے کہا: ” میں تو کلمہ نہیں پڑھوں گا۔” سب مُرِید رونے دھونے لگے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔اُس بُزُرگ نے آنکھیں کھولیں تو مُرِیدوں کو روتے پایا،حیران رہ گئے۔پوچھا تو انہوں نے بتایا: ” معاذ اللّٰه! میں نے شاید تمہارے سامنے اِنکار کِیا ہو،مگر حقیقت یہ ہے مجھ پر ضعف اور کمزوری ہو گئی تھی۔پیاس کی شِدّت نے مجھے جاں بلب کر دیا تھا،میں نے دیکھا شیطان ابلیس فرصتِ غنیمت شمار کرتے ہوئے میرے سرہانے پانی کا پیالہ لیے کھڑا ہے۔

اور پانی کو چھلکا رہا ہے۔ مجھے کہنے لگا! تم پانی پینا چاہتے ہو تو کہو دُنیا میں کوئی معبود نہیں ہے۔میں اس کی بات سے اِنکار کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ نہیں کہوں گا۔اسی طرح اس نے مجھے دائیں بائیں،آگے پیچھے ہوتے ہوئے بارہا یہی کہا تو میں کہتا گیا میں یہ کلمہ ہرگِز نہیں کہوں گا۔پِھر اس نے کہا! اچھا یہی کہہ دو کہ دُنیا میں تین خدا ہیں۔میں نے پِھر کہا کہ میں ایسا نہیں کہوں گا،ہرگِز نہیں کہوں گا۔غُصّہ میں آ کر اس نے پیالہ زمین پر دے مارا اور بھاگ گیا۔وہ روئے سخن اِبلیس کی طرف تھا۔میں آپ لوگوں کو مخاطب نہیں تھا۔اب تم لوگ گواہ رہنا میں مومن ہوں۔اِیمان کی دولت سے جا رہا ہوں۔” یہ کہتے ہوئے کلمہ شہادت پڑھا اور جان سپردِ خدا کر دی۔ ( مُعارجُ النّبوّت،جِلد: ۱،صفحہ: ۱۴۲،۱۴۳ ) ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: