ایک لطیف واقعہ

” ” حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے دُعا کرتے ہوئے بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کِیا: ” اے اللّٰه! میرا دِل چاہتا ہے کہ اپنے خزانے سے کوئی نِشانی عطا فرما تاکہ مجھے اندازہ ہو سکے کہ تیرے خزانوں کی نظیر دُنیا بھر کے خزانوں سے نہیں مِلتی۔” اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا: ” موسیٰ ( علیہ السّلام )! اپنی جھونپڑی میں ایک دِیا جلاؤ۔

پِھر اپنے تمام خاندان والوں اور ہمسایوں کو حُکم کرو کہ وہ اس دِیے سے اپنے اپنے گھروں کے چراغ روشن کرتے جائیں۔” چنانچہ ایسے ہی کِیا گیا۔اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا: ” موسیٰ ( علیہ السّلام )! اب دیکھو تمہارے چراغ کی روشنی میں کچھ کمی تو نہیں ہوئی،بس! میرے خزانہ جود و کرم کو بھی اسی پر قیاس کریں کہ اس سے کروڑوں فیضان کے دریا جاری ہوئے۔مگر میرے بے پناہ خزانوں میں سے ایک ذرّہ بھی کم نہیں ہُوا۔” یہی وجہ ہے اللّٰه تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کو آفتاب کہہ کر نہیں پُکارا سراجِ مُنیر ( یعنی روشن چراغ ) کہہ کر یاد فرمایا ہے۔ ( مُعارج النّبوّت، جِلد: ۱، صفحہ: ۲۳۱ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: