وہ بھی ایک عورت تھیں

عائشہ رضی اللہ عنھا! ہم جیسی! نسوانی جذبات سے بھرپور۔۔ لیکن ساتھ ہی ام المومنین بھی تھیں ۔ محبت سے گندھی ہوئی، سوکنوں کے ساتھ مثالی رویہ، اور کہیں کہیں ہلکی پھلکی رقابت بھی جھلک جاتی تھی! لیکن وہ اعتدال پہ قائم رہتی، زیادتی نہ ہوتی۔ کہا جاتا ہے کہ صفیہ رضی اللہ عنھا بہت اچھا کھانا پکاتی تھیں، انہیں خاص سلیقہ تھا۔ جس کی تعریف عائشہ رضی اللہ عنھا خود کرتی ہیں کہ “میں نے ان سے بہتر کھانا پکانے والا کسی کو نہیں دیکھا۔” اس تعریف کے لئے بھی ظرف درکار ہے! ایک دن دونوں ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا پکایا۔ حضرت صفیہ کا کھانا جلد تیار ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرے میں تھے، انہوں نے وہیں کھانا بھجوادیا۔ کھانا آتا ہے۔۔۔ عائشہ رضی اللہ عنھا ذرا جھنجھلا جاتی ہیں۔

جیسے کوئی بہت محبت سے کسی کے لئے خود کھانا پکائے، لیکن اسے اپنی محنت برباد ہوتی نظر آرہی ہو۔۔ اسی کیفیت میں ایسا ہاتھ مارا کہ خادمہ کے ہاتھ سے پیالہ چھوٹ کر گر پڑا، اور ٹکرے ٹکرے ہوگیا۔۔۔ اُدھر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ چاہتے تو انہیں ڈانٹ دیتے، یا تھوڑا ناراضگی کا اظہار کرلیتے، یا کوئی نصیحت ہی کردیتے۔ لیکن وہاں تو سراپا حکمت اور رحمت سے لبریز وجود تھا۔ سکوت تھا۔ آگے آتے ہیں اور خاموشی سے پیالے کے ٹکروں کو اپنے ہاتھوں سے چنتے ہیں۔ اور خادمہ سے کہتے ہیں “تمہاری ماں کو غصہ آگیا۔” کیسی مردم شناسی ہے! کیسا تحمل ہے! کچھ دیر بعد حضرت عائشہ کو اپنے فعل پر خود ندامت سی ہوتی ہے۔۔ کہتی ہیں: “یا رسول اللہ! اس جرم کا کیا کفارہ ہوسکتا ہے؟” فرماتے ہیں: “ایسا ہی پیالہ اور ایسا ہی کھانا۔” اور حضرت عائشہ نے ایسا ہی کیا۔ جذباتی کیفیت تو کسی بھی لمحے کسی پہ طاری ہوسکتی ہے، لیکن اس پہ نادم ہونا اور اس کی تلافی کرلینا، جھک جانے کو عار محسوس نہ کرنا۔۔ یہ ان (رضی اللہ عنھا) کا خاصہ تھا۔ (واقعہ بحوالہ سیرت عائشہ، از سلیمان ندوی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: