اللہ والوں کے ساتھ جڑ کر رہنا

اللہ والوں کے ساتھ جڑ کر رہنا بہت ضروری ہوتا ہے جانتے ہو کیسے؟ جب موسٰی علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لئے گئے تو وہ صرف چالیس دن تھے جب وہ اپنی قوم سے جدا رہے تھے اور ان کی قوم نے ان چالیس دنوں میں بچھڑے کی پرستش شروع کر دی انکے دلوں میں بچھڑے کی محبت پہلے سے تھی لیکن ایک راہنما کے موجود ہونیکی وجہ سے وہ اس محبت کو ظاہر نہیں کر پائے تھے بلکہ چھپائے بیٹھے تھے اور جیسے ہی موسیٰ علیہ السلام کو دور پایا تو اس چھپی محبت کو باہر آنیکا موقع مل گیا.

اسی طرح ہمارے اندر بھی کوئی نہ کوئی بچھڑا چھپا ہوتا ہے کہیں پہ کسی انسان کی محبت کا بچھڑا ,کہیں خواہشاتِ نفس کا بچھڑا ,کہیں عزت کی چاہ کا, تو کہیں دولت کی محبت کا بچھڑا..اگر ہم ایمان والوں کے ساتھ رہیں تو اس بچھڑے کی محبت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے اور اگر ہم ایمانی ماحول اور ایمان والوں سے دور ہو جائیں تو چیونٹی کی چال سے بھی آہستہ یہ محبت ہمارے اندر سرایت کرتی چلی جاتی ہے اور پھر ہم ہر وہ کام کرتے ہیں جو بچھڑے کا مطالبہ ہوتا ہے زندگی میں ہمیشہ کسی راہنما کی راہنمائی کی ضرورت رہتی ہے.تو ایمان والوں کی صحبت اور ایمانی مجالس, اور جماعت کو خود پر لازم کر لو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: