ایک صحابی سخت بیمار تھے

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سخت بیمار ہوگئے شدت ضعف کی وجہ سے اٹھنے بیٹھنے سے بھی معذور ہوگئے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے ان کے گھر تشریف لے گئے بیمار صحابی نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو خوشی سے نئی زندگی محسوس کی اور ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کوئی مردہ اچانک زندہ ہو گیا ہوں صحابی رسول کہنے لگے زہےنصیب اس بیماری نے تو مجھے خوش نصیب کر دیا جس کی بدولت میرے غریب خانے کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے اقدس چومنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

اس صحابی رسول نے کہا اے میری بیماری اور اے بخار اور اے رنج و غم اور درد اور اے بیداری شب تجھے مبارک ہو بسبب تمہارے اس وقت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو میرے پاس تشریف لائے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں کچھ یاد ہے کہ تم نے حالت صحت میں کوئی نامناسب دعا مانگی ہو انہوں نے کہا یارسول اللہ مجھے کوئی یاد نہیں آتا کہ کیا دعا کی تھی تھوڑے ہی وقفے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے ان کو وہ دعا یاد آگئی صحابی رسول نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں نے اپنے اعمال کی کوتاہیوں اور خطاؤں کے پیش نظر یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالی وہ عذاب جو آخرت میں آپ دیں گے وہ مجھے عالم دنیا میں دے دے تاکہ عالم آخرت کے عذاب سے فارغ ہو جاؤ یہ دعا میں نے بار بار مانگی یہاں تک کہ میں بیمار ہوگیا اور یہ نوبت آ گئی کہ مجھ کو ایسی شدید بیماری نے گھیر لیا کہ میری جان اس تکلیف سے بے آرام ہو گی حالت صحت میں میرے جو معاملات تھے میں ان سب سے عاجز اور مجبور ہوگیا برے بھلے اپنے بیگانے سب فراموش ہو گئے اب اگر آپ کا روئےاقدس نہ دیکھتا تو بس میرا کام تمام ہو چکا تھا آپ کے لطف و کرم اور غم خواری نے مجھ کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

اس مضمون دعا کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور منع فرمایا کہ آئندہ ایسے نامناسب دعا مت کرنا یہ ادابِ بندگی کے خلاف ہے کہ انسان اپنے مولا سے بلاؤ عذاب طلب کرے انسان تو ایک کمزور چیونٹی کے مانند ہے اس میں یہ طاقت کہاں کے آزمائش کا اتنا پہاڑ اٹھا سکے صحابی رسول نے عرض کی یارسول اللہ میری ہزار بار توبہ کے آئندہ کبھی ایسی بات زبان پر لاؤں یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان اب آئندہ کے لئے میری رہنمائی فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی کیا اللہ دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی ہم کو بھلائی عطا فرما خدا تمہاری مصیبت کے کانٹوں کو گلشن راحت میں تبدیل کر دے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: