بعض لوگ

حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ کسی عبد کو پتہ چلا کہ بعض لوگ فلاں درخت کی عبادت کرتے ہیں، وہ اسے کاٹنے کے ارادے سے چلا، کہ شیطان بشکل انسان سر راہ ملا اور کہنے لگا اگر تو نے اس درخت کو کاٹ بھی دیا تو لوگ کسی اور کی پوجا کرنے لگیں گے، لہٰذا تم اپنی عبادت میں مصروف ہوں اور اس سے مت کاٹو، عابد نے کہا میں اسے ضرور کاٹوں گا۔

شیطان نے پھر روکا تو دونوں میں ہاتھا پائی شروع ہو گئی یہاں تک کہ عابد نے شیطان کو بھاگنے پر مجبور کر دیا، مگر شیطان نے مکاری کا جال پھینکا اور اسے کہنے لگا میری بات مانو اور اپنی عبادت میں لگے رہو میں ہر رات دو اشرفیا تیرے سرہانے رکھ دیا کروں گا، تو غریب اور نادار آدمی ہے، اگر اللہ تعالی کو منظور ہوتا تو وہ کسی اپنے رسول کو بھیجتا جو اسے کاٹ دیتا۔ جب تو اس درخت کی خود عبادت نہیں کرتا تو تجھے اس سے کیا ہے، عابد شیطان کے جھانسے میں آیا اور واپس چلا گیا، رات کو واقعی اسے سرہانے سے دو اشرفیہ دستیاب ہوئی، اسی طرح دوسری شب بھی ملیں۔ تین دن کچھ ہاتھ نہ لگا، پھر اسی درخت کو کاٹنے کے لئے باہر نکلا تو شیطان کو مدمقابل پایا۔ چناچہ مقابلہ ہوا تو شیطان غالب رہا۔

عابد نے تعجب سے دریافت کیا! کیا وجہ ہے کہ پہلے میں تجھ پر غالب آیا اور آج تو؟ شیطان بولا! اس دن تو اللہ تعالی کے لئے مجھ پر غضبناک ہوا تھا مگر آج تو دو اشرفیوں کے لئے! پتہ چلا نیت خالص، شیطان پر غلبہ دیتی ہے اور بد نیتی کے باعث شیطان غالب آ جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: