کسی نے حاتم طائی سے پوچھا

کسی نے حاتم طائی سے پوچھا: ” کیا کبھی ایسا ہوا کہ کوئی شخص جودوسخا میں آپ پر سبقت لے گیا ہوں؟”۔ حاتم طائی نے جواب دیا: ہاں،ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ مجھے قبیلۂ طے کے ایک یتیم کے گھر ٹھرنے کا موقع ملا۔ اس کے پاس دس بکریاں تھیں۔ اس نے میری مہمانی کی خاطر ایک بکری ذبح کی اور دسترخوان پر میرے آگے اس کا مغز پیش کیا۔

مجھے مغز کا وہ حصہ بہت ہی لذیذ لگا اور میں نے کھانے کے ساتھ ہی کہا: ” واللہ! یہ کس قدر لذیذ ہے”۔ یتیم لڑکے نے جب میری زبان سے یہ الفاظ سنے تو اس نے ایک ایک کر کے سارے بکریوں کو ذبح کرکے ان کا مغز میرے آگے پیش کر دیا۔ مجھے اس کا علم نہیں تھا کہ میری خاطر اپنی ساری بکریاں ذبح کردیں ہیں۔ جب میں واپسی کے لئے اس کے گھر سے نکلا تو میری نگاہ گھر کے ارد گرد پھیلے خون پر پڑی۔ میں نے دیکھا کہ اس نے بکریوں کو ان کی رسیوں سمیت ہی ذبح کر ڈالا ہے۔ میں نے اسی تیمم سے مخاطب ہو کر کہا: ” تم نے انصاری بکریوں کو کیوں ذبح کر ڈالا”۔ وہ کہنے لگا: ” سبحان اللہ! آپ جیسے میرے مہمان کو کوئی ایسی چیز اچھی لگے جو میرے قبضہ میں ہو۔

اور میں بخل سے کام لے کر آپ سے اسے روک کر رکھو؟ یہ تو عربوں کی شان میں ایک گستاخی اور عیب ہوگا!”۔ حاتم طائی سے پوچھا گیا: ” پھر آپ نے بطور عوض اس یتیم لڑکے کو کیا دیا؟۔ حاتم طائی نے کہا: میں نے اس یتیم کو تین سو سرخ اونٹنیاں اور پانچ سو بکریاں دیں۔ یہ سن کر لوگوں نے حاتم طائی سے کہا: ” پھر تو آپ اس سے زیادہ سخی ہوئے”۔ حاتم طائی نے ان کے جواب میں کہا: ” نہیں، بلکہ وہ یتیم مجھ سے زیادہ سخی تھا۔ کیونکہ اس نے اپنی ملکیت میں موجود سب کچھ سخاوت کر دی، جبکہ میں نے اپنی ملکیت کا ایک چھوٹا سا حصہ دیا”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: