یہودیوں کے بڑے عالم عبداللہ بن سلام کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے 3 سوال

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ یہودیوں کے بڑے عالم عبداللہ بن سلام کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کی خبر پہنچی تو اس وقت وہ اپنے باغ میں پھل چن رہے تھے۔

وہ سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: ” میں آپ سے تین سوالات کروں گا جن کا جواب کوئی نبی ہی دے سکتا ہے: 1۔ قیامت کی پہلی نشانی کیا ہے؟ 2۔ جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہوگا؟ 3۔ بچہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتا ہے؟” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابھی ابھی ان سوالوں کا جواب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا ہے۔” عبد اللہ بن سلام نے پوچھا: جبرائیل؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جبرائیل۔ عبد اللہ بن سلام نے کہا: ” وہ تو فرشتوں میں سے یہودیوں کا دشمن ہے۔

” یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ترجمہ۔” اگر کوئی جبرائیل کا دشمن ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ جبرائیل ہی نے اللہ کے حکم سے یہ قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر اتارا ہے” البقرہ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت کی پہلی نشانی یہ ہے کہ ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو مشرق سے گھیر کر مغرب کی طرف اکٹھا کرے گی۔ اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہے جو بڑا لذیذ ہوتا ہے۔ اور جب مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آ جائے تو بچہ اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔

لیکن جب عورت کے منی مرد کی منی پر غالب آ جائے تو بچہ اپنی ماں کے مشابہ ہوتا ہے۔” یہ سن کر عبداللہ بن سلام نے کلمہ شہادت پڑھا: “میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔” پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہود بہتان تراش لوگ ہیں۔ اگر انہیں معلوم ہوگیا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ مجھ پر بہتان تراشی کریں گے، اس لئے آپ ذرا پہلے ہی میرے بارے میں ان سے پوچھ لیں۔ یہودی جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: “تم میں ابلا کیسا آدمی ہے؟

” یہودیوں نے جواب دیا” ” وہ ہم میں سب سے بہتر ہیں اور سب سے اچھے کے صاحبزادے، ہیں ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں۔” پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” ” تمہاری کیا رائے ہے اگر عبداللہ بن سلام دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں؟( تو کیا تم بھی اسلام قبول کر لو گے؟)” یہودی کہنے لگے: “اللہ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔” اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جو اندر چھپے ہوئے تھے نکلے اور کلمہ شہادت پڑھا: یہودیوں نے جب دیکھا کہ عبداللہ بن سلام دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں تو فوراً ہی اپنے موقف سے پلٹ گئے اور کہنے لگے: ” ہم میں سب سے برااور سب سے برے کا بیٹا۔” اور ایسے ہی عناب شناب بکنے لگے۔

عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ” اے اللہ کے رسول! میں اسی بات سے ڈر رہا تھا۔” اس سلسلے میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ” اے نبی! آپ ان یہودیوں سے یہ کہہ دیں: کبھی تم نے سوچا بھی ہے کہ اگر یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کردیا تو تمہارا انجام کیا ہوگا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس جیسی کتاب اترنے کی گواہی دے چکا، پھر وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: