گناہوں سے توبہ

علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ذکر اذکار کی مجلسوں میں میرے ہاتھ پر ایک لاکھ سے بھی زائد افراد نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور 200 سے زائد لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ نیز میرے وعظ و نصیحت سے کتنی پتھر نما آنکھوں نے آنسوؤں کے سمندر بہائے جن کا کبھی رونا محال تھا۔ جس آدمی کو یہ انعام و اکرام حاصل ہو جائے پھر وہ اگر خیر کی امید رکھے تو اس کا یہ حق بجا ہے۔ لیکن بسا اوقات میری آنکھوں کے سامنے خوف کے اسباب رونما ہو جاتے ہیں جو میری کوتاہیوں اور لغزشوں کی نشاندہی کرنے میں تھوڑا سا بھی بہت سے کام نہیں لیتے۔

ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور میرے اردگرد بہت سارے افراد اکٹھے تھے۔ ان میں سے ہر آدمی کا دل نرم و گداز ہو گیا تھا یا کم از کم ان کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہہ رہے تھے۔ میں نے یہ منظر دیکھ کر دل ہی دل میں کہا تمہارا کیا ہوگا جب یہ سارے لوگ نجات پا جائیں گے اور تم خود ہلاکت کے بھنور میں پھنس جاؤ گے۔ یہ سوچتے ہیں میں عالم تصور میں چیخ اٹھا یاالہی میرے آقا و مولا اگر کل کو تو نے میری قسمت میں عذاب لکھ دیا ہے تو میرے عذاب کے متعلق ان لوگوں کو جو میری مجلس میں بیٹھے ہیں مت بتلانا۔ اپنی شان کی حفاظت کے لئے نہ کہ میرے لئے تاکہ یہ لوگ یہ نہ کہیں رشد و ہدایت کی راہ بتانے والا جہنم رسید ہوا۔ الہی تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ عبداللہ بن ابی منافق کو قتل کردیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

نہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔ الہی اپنے فضل و کرم سے میرے بارے میں ان کا اچھا گمان برقرار رکھنا اور انہیں میرے عذاب کے متعلق نہ بتلا نا۔ الٰہی اپنی تراشیدہ لکڑی کو توڑ مت دینا کہیں ایسا نہ ہو کہ میری سخاوت کی رسی ٹوٹ کر بکھر جائے۔ جس کھیت کو تو نے سینچا اور جو تیری نظر کرم کے سامنے سرسبزوشاداب ہوئی اسے خشک نہ کر دینا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: