حضرت عیسی علیہ السلام اورایک آدمی کا وقعہ

حضرت امام جریر نے لیث سے نقل کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ ایک آدمی آملا اور عرض کیا میں آپ کے ساتھ ہی رہوں گا۔ آپ کے ساتھی کے طور پر۔وہ دونوں چل پڑے اور کنارہ دریا پر جا پہنچے وہاں بیٹھ کر صبح کا کھانا کھانا شروع کیا تین روٹیاں تھی دو روٹیاں انہوں نے کھالی تیسری روٹی باقی بچ گئی۔ عیسی علیہ السلام اٹھے دریا سے پانی نوش فرمایا اور واپس آگئے تو روٹی موجود نہ تھی انہوں نے اس شخص سے پوچھا کہ وہ روٹی کس نے لی ہے اس نے جواب دیا کہ مجھے تو معلوم نہیں پھر وہ روانہ ہو پڑے وہ ساتھی ساتھ ہی تھا۔

ایک ہرنی دکھائی دی جس کے ساتھ بچے بھی تھے۔ ان میں انہوں نے ایک کو طلب فرمایا وہ آگیا اس کو ذبح کر لیا بھو نا اس میں سے عیسی علیہ السلام نے کھایا اور آپ کے ساتھ والے نے بھی پھر ہرنی کے بچے کو حکم فرمایا اللہ کے حکم سے اٹھ وہ اٹھا اور بھاگ گیا عیسیٰ علیہ السلام نے ساتھی آدمی کو کہا میں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تجھے یہ معجزہ دکھایا کہ تو مجھے بتا دیں وہ روٹی کس نے لی تھی۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں ہے پھر وہ روانہ ہو پڑے اور ایک جھیل پر پہنچے۔ آپ نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور سطح آب پر چل پڑے جب پانی عبور فرما کر کنارے پر اترے تو اسے اللہ کی قسم دے کر پوچھا کہ بتا وہ روٹی کہاں گئی۔ اس نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں آپ وہاں سے روانہ ہوئے اور ایک جنگل میں آئے وہاں بیٹھے۔ عیسی علیہ السلام نے تھوڑی سی مٹی کو جمع کر لیا اور اسے فرمایا اللہ کے حکم سے سونا ہو جا۔ بس وہ مٹی سونا بن گئی آپ نے اس کے تین حصے کر دیے اور ساتھی کو کہا کہ ایک تہائی میرا ہے ایک تہائی تیرا اور ایک اس کا ہے جس نے وہ روٹی لی تھی۔اس نے بتا دیا کہ روٹی میں نے ہی لی تھی آپ نے اس کو فرمایا یہ سارا سونا تمہارا ہے اور عیسی علیہ السلام اس سے جدا ہو گئے پھر اس آدمی کے پاس جنگل میں ہی دو شخص آئے انہوں نے دیکھا وہ مال والا ہے انہوں نے اس کو قتل کر کے مال لے لینے کا سوچ لیا تو یہ کہنے لگا کہ یہ مال ہم تینوں میں مساوی منقسم ہے۔

ایک شخص کو بستی میں کھانا لانے کے لیے بھیج دیا تاکہ ہم کھائیں بس ایک آدمی کو کھانا لانے کے واسطے بھیج دیا۔ کھانا لانے والے نے ارادہ کرلیا کہ میں مال کو تقسیم کیوں ہونے دوں میں کھانے میں زہر ملاتا ہوں۔یوں ان دونوں کو مار دیتا ہوں اور سارا سونا خود لے لوں گا بس اسی طرح ہی اس نے عمل کیا اور جو دو شخص پیچھے جنگل میں رہے انھوں نے آپس میں مشورہ کر لیا کہ ہم اس کو تیسرا حصہ کیوں دیں اس کی بجائے وہ جب یہاں آجائے تو اس کو قتل کر دیا جاۓ اور آپس میں دو حصوں میں مال تقسیم کر لینگے راوی کا بیان ہے کہ وہ جب ان کے پاس پہنچا تو اس کو ان دونوں نے قتل کر دیا پھر کھانا کھایا اور وہ دونوں بھی مر گئے اور سونا جنگل میں پڑا رہ گیا اور یہ تین آدمی قریب مردہ پڑے ہوئے تھے ان پر سے عیسی علیہ السلام کا گزر ہوا تو اپنے حواریوں کو انہوں نے بتایا کہ ایسی ہے یہ دنیا اس سے بچ کر ہی رہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: