ایاک نعبد و ایاک نستعین

ایک شخص نے نماز شروع کی جب وہ ایاک نعبد و ایاک نستعین پر پہنچا تو دل میں سوچنے لگا کہ وہ دراصل اللہ تعالی کی عبادت کر رہا ہے تو اس کو آواز سنائی دی کہ تو جھوٹا ہے تو مخلوق کی عبادت کرتا ہے۔ یہ سن کر اس شخص نے توبہ کی اور نماز توڑ دی۔ پھر دوبارہ نماز شروع کی پھر ایاک نعبدو و ایاک نستعین پر آیا تو پھر آواز سنائی دی کہ تو جھوٹا ہے تو اپنے مال کی عبادت کرتا ہے اس شخص نے تمام مال صدقہ کر دیا اور پھر نماز پڑھنے لگا اس دفعہ بھی آواز سنائی دی کہ تو اپنے ملبوسات کی عبادت کرتا ہے۔ اس نے کپڑے بھی صدقہ کر دیے۔

صرف ضرورت کی حد تک رکھ لیے اور پھر نماز شروع کی پھر جب ایاک نعبدو پر آیا تو آواز سنائی دی اب تو نے سچ بولا ہے اب تو اپنے پروردگار کی عبادت میں ہے۔ اور رونق المجالس میں آیا ہے کہ ایک آدمی کے بالوں کے گاؤن کھو گئے مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ کون اٹھا کر لے گیا ہے۔ جب وہ نماز پڑھ رہا تھا تو اس کی یاد میں آگیا۔ اس نے سلام پھیر لیا اور اپنے غلام کو طلب کر کے اس سے کہا کہ فلاں دن فلاں آدمی کے پاس جا کر بالوں کے گاؤن واپس لے آؤ۔ غلام نے اس سے سوال کیا کہ آپ کو گاؤن کب یاد آگئے۔ اس نے کہا کہ نماز کے دوران یاد آئے غلام نے اس سے عرض کیا اے آقا نماز میں آپ اللہ تعالی کے طالب نہیں تھے بلکہ گاؤن کے طالب تھے اس غلام کو آقا نے اپنا عقیدہ صحیح ہو جانے پر آزادی دے دی۔پس انسان کو دنیا چھوڑ دینی چاہیے اور عبادت الہی ہونی چاہیے اس کو آئندہ کے لیے فکر کرنا چاہیے۔ انسان کو آخرت ہی کی طلب رہنی چاہیے اللہ تعالی نے فرمایا ہے:۔ ( جسے آخرت کا مفاد مطلوب ہو ہم اس کے پھل کو زیادہ کر دیتے ہیں اور جو دنیا کا فائدہ چاہے ہم اس میں سے اسے عطا کر دیتے ہیں اور آخرت سے اس کے لئے کوئی حصہ نہ ہے)۔

حرث الدنیاء سے مراد دنیاوی مال یعنی کھانا پینا وغیرہ سامان طالب دنیا کے دل میں آخرت کی طلب کو خارج کر دیتا ہے اسی لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پوشیدہ طریقے سے 40 ہزار دینار صرف کر دیے اور مزید چالیس ہزار کھلے عام آنحضرت پر خرچ کر دیے یہاں تک کہ ان کے پاس بقایا کچھ نہ رہا۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آنجناب کے اہل بیت دنیا اور دنیاوی لذتوں سے دور تھے جو سامان سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جیز میں دیا گیا تھا، وہ تھا ایک مشکیزہ رنگ کردہ چمڑے کا اور ایک تکیہ تھا جوکھجور کی چھال سے بھرا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: