جہاد

ایک بار جب صحابہ رضی اللہ عنہم کفار کے خلاف جہاد کے بعد لوٹ رہے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی جانب واپس آتے ہیں۔ آپ نے خواہش نفس اور شیطان کے خلاف جہاد کو جہاد اکبر فرمایا ہے۔ بایں وجہ کے شیطان نفس کی مدد کرتا ہے اور خواہش کا حال بھی ایسا ہی ہے جبکہ کافر تیرے نفس کی مدد کرنے والا نہیں ہے۔

اس لئے نفس سے جہاد زیادہ شدید ہے نیز یہ بھی وجہ ہے کہ تم نے جب کوئی کافر قتل کیا تو تم کو مدد اور غنیمت ملتی ہے اور اگر کافر تمہیں قتل کر دیں تو تمہیں شہادت اور جنت ملتی ہے جب کہ شیطان کو تم قتل نہیں کر سکتے اور شیطان اگر تم کو ہلاک کردے تو تم اللہ تعالی کے عذاب میں مبتلا ہوں گے جیسے ایک قول ہے کہ جس کا گھوڑا بھاگ جاۓ وہ دوران جنگ دشمن کے قابو میں آ گیا اور جس کا ایمان اسے چھوڑ کر بھاگ گیا وہ غضب الہی میں مبتلا ہوگیا۔

ہم کو اللہ تعالی اس سے اپنی پناہ میں رکھے اور جو کفار کے قابو میں ہو گیا اس کا ہاتھ اس کی گردن کو نہ پہنچا اس کا پاؤں بھی نہیں بندھا۔ اس کا پیٹ بھی بھوکا نہ رہا نہ ہی اس کا جسم ننگا ہوا جبکہ غضب الہی کا شکار ہونے والے کا چہرہ سیاہ ہوگیا اس کا مشروب بھی آگ ہے اور لباس بھی آگ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: