بیمار شخص اور صبر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص ایک رات بیمار رہا اور اس نے اس پر صبر کیا اور اللہ تعالی اسکے ساتھ راضی رہے وہ گناہوں سے یوں پاک ہو گیا جیسے اس کی والدہ نے اس کو آج ہی جنم دیا ہو جب تم کو مرض ہو جائے تو آفییت کی تمنا کیا کرو اور حضرت ضحاک اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ فرماتے تھے جس وقت بیچ کس کو کسی شخص کو اللہ تعالی کسی مرض میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ تعالی بات بائیں جانب والے فرشتے کو اپنا قلم روک لینے کا حکم فرمادیتاہے اور دائیں جانب والے فرشتے کو حکم فرما دیتا ہے کہ میرے بندے کے حق میں وہ عمل درج کررحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے اگر کوئی آدمی ہر چالیس رات کے دوران ایک مرتبہ بھی آفت میں نہیں پڑتا یا کسی پریشانی میں نہ پڑے اس کے واسطے اللہ تعالی کے نزدیک کچھ بھلائی نہیں ہے۔

اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرماتے تھے جس وقت کسی شخص کو اللہ تعالی کسی مرض میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ تعالی بائیں جانب والے فرشتے کو اپنا قلم روک لینے کا حکم فرما دیتا ہے اور دائیں جانب والے فرشتے کو حکم فرمادیتاہے کہ میرا بندے کے حق میں وہ عمل درج کرو جو وہ سب سے بہتر عمل کرتا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب ایک بندہ بیمار پڑتا ہے تو اس کی طرف اللہ تعالی دو فرشتوں کو بھیج دیتا ہے اور انہیں فرماتا ہے کہ تم دیکھتے رہو کہ میرا بندہ کیا کہتا ہے وہ بندہ اگر رب تعالیٰ کی حمد کرتا ہے تو فرشتے وہ حمد اللہ تعالی کے حضور پیش کر دیتے ہیں اگرچہ خود اللہ تعالی کو بھی معلوم ہوتا ہے پھر اللہ تعالی فرماتا ہے کہ مجھ پر میرے بندے کا حق ہے کہ اگر اسے وفات دی جائے تو اسے جنت میں داخل کیا جائے اور اگر میں اسے تندرستی عطا کروں تو اس کے گوشت سے بہتر گوشت اور اس کے خون سے بہتر خون میں اس کو عطا کروں اور اس کے معاصی کو محو کر دوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: