یہود اور زکریا علیہ السلام

یہود سے بچنے کے لئے حضرت زکریا علیہ السلام بھاگ گئے یہود ان کا تعاقب کرنے لگے یہود قریب آگئے تو زکریا علیہ السلام نے دیکھا یہ ایک درخت ہے اس کو فرمایا کہ اے درخت مجھے اپنے اندر پوشیدہ کر لو وہ درخت کٹ گیا آپ اس کے اندر داخل ہو گئے درخت اوپر سے پھر مل گیا یہود کو ابلیس نے خبر کر دی اور کہا کہ تم آرا لاؤاس کو چیرو اور ٹکڑے کر دو تا کہ اس کی موت واقع ہو جائے بس یہود اس پر عمل پیرا ہوئے وجہ یہ ہوئی تھی کے زکریا علیہ السلام نے درخت سے پناہ طلب فرمائی تھی اللہ تعالی کی پناہ نہ مانگی تھی پس ہلاکت ہوئ ۔

لوگوں نے آرے کے ساتھ چیرا اور دو ٹکڑے کر دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جس بندے پر کوئی آفت وارد ہو جائے اور وہ بجائے میرے کسی مخلوق سے پناہ طلب کرے اس کے لئے میں آسمان کے دروازے کو بند کر دیتا ہوں۔ بالآخر زکریا علیہ السلام کے دماغ تک آرا جس وقت پہنچا تو چیخنے چلانے لگے تو ان کو کہا گیا اے زکریا آپ کو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ آفت کے وقت پر تم نے صبر کیوں نہیں کیا تم نے آہ بلند کی ہے اگر دوبارہ آہ بلنند کی تو انبیاء میں سے تمہارا نام خارج کر دیا جائے گا۔ بس ذکریا علیہ السلام نے اپنے ہونٹ اپنے دانتوں میں دبا لئے اور برداشت کیا لوگوں نے ان کے بدن کو چیرا اور دو ٹکڑے کر دیا صاحب عقل شخص کو آفت پر صبر کرنا چاہیے شکایت نہ کرے تو دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ ہوگا کیونکہ سب سے بڑھ کر انبیاء و اولیاء پر ہی آفتیں وارد ہوتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: