خواہش

حضرت مالک بن دینا رحمۃ اللہ علیہ مرض الموت میں مبتلا تھے آپ کے دل میں شہد اور دودھ کی خواہش ہوئی کہ اس میں گرم روٹی شامل کرکے ثرید تیار کر لیں پس خادم جا کر دودھ و شہد لے آیا آپ نے لے لیا اور اس کو کچھ دیر کے لئے دیکھتے رہے پھر فرمایا اے نفس تو نے تیس سال کا عرصہ صبر سے گزارا اور تیری عمر کی ایک ساعت باقی رہ گئی ہے اتنا کہہ کر اپنے ہاتھ سے برتن رکھ دیا اور صبر اختیار کیا پھر آپ کا وصال ہوگیا۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام بن داؤد علیہ السلام نے فرمایا ہے جو شخص نفس کو قابو میں رکھتا ہے۔

وہ شہر فتح کر لینے والے سے بڑھ کر بہادر شخص ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ میں اور میرا نفس یوں ہے جس طرح بکریاں اور انکا چرواہا ہوتا ہے اگر ایک طرف سے بکریوں کو اکٹھی کرتا ہوں تو دوسری طرف والی منتشر ہوجاتی ہیں جس نے اپنا نفس مار لیا وہ رحمت کے کفن لپیٹے گااور سرزمین عزت میں اس کی تدفین ہوگی اور جس نے دل کو مار دیا وہ لعنت کے کفن میں ہوگا اور سرزمین عذاب میں دفن ہوگا اور یحییٰ بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے عبادت و ریاضت کے ساتھ نفس کے خلاف جہاد کرو۔

ریاضت سے مراد ہے نیند کم کر لے کھانا بھی کم کھائے اور لوگوں کی جانب سے اذیت کو صبر سے برداشت کرے نیند کم ہوگی تو ارادے درست ہو جائیں گے کھانا کم کھائے گا تو آفات سے محفوظ رہے گا اذیت برداشت کرے گا تو اپنے اصل مقصود کی جانب آگے بڑھنے میں آسانی ہو جائے گی اور کم کھانے میں ہی شہوات کی موت ہے کیوں کہ زیادہ کھانے میں دل سخت ہو جایا کرتا ہے اس کا نور ماند پڑ جاتا ہے کہ حکمت کا نور گرسنگی ہے اور سیر ہو کر کھانا آدمی کو اللہ سے دور کر دیتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: