منصور حلاج

منصور حلاج کے متعلق روایت ہے کہ اس کو لوگوں نے 18 یوم تک قید کیے رکھا اس کے پاس حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ آۓ اور فرمایا اے منصور بتاؤ محبت کیا ہے جواب دیا آج نا پوچھیں کل پوچھ لینا اگلے روز لوگوں نے قید سے باہر نکالا ان کے قتل کے لیے ان پر جرم لگایا گیا تو وہاں سے پھر شبلی رحمۃ اللہ علیہ کا گزر ہوا۔منصور نے انکو آواز دے کر مخاطب کیا اور کہا۔

اے شبلی محبت کا آغاز ہے جلنا اور اس کا انجام ہے قتل۔ منصور نے جب یہ محسوس کرلیا کہ ہر شے فانی ہے سمجھ گئے کہ اللہ تعالی حق ہے تو اسم حق مستحق ہونے کی وجہ سے وہ اپنا نام ہی بھول گئے جب پوچھا جاتا تھا کہ آپ کون ہے تو جواب دیتے تھے میں حق ہوں۔ نقل میں آیا ہے کہ سچی محبت کی تین نشانیاں ہیں:۔ (1)۔ دوسروں کی بجائے میں محبوب کی زبان اختیار کر لینا۔ (2)۔ دیگر لوگوں کی بجائے اپنے محبوب کا ہم نشین ہو جانا۔ (3)۔ دوسرے لوگوں کی رضامندی کی بجائے اپنے محبوب کی رضامندی کا حصول۔

اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فی الحقیقت عشق پردہ دری ہے یعنی راز افشاء کر دینا حلاوت ذکر کی وجہ سے۔ روح کا عاجز ہو جاناشوق کے غلبے کی وجہ سے یہاں تک کہ اس کے بدن کا کوئی حصہ کاٹ بھی دیں تو عاشق کو محسوس نہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: