غافل رہتا تھا

ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام پڑھنے سے غافل رہتا تھا اسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دوران خواب دکھائی دیئے آپ نے اس کی جانب کوئی توجہ نہیں فرمائی اس نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ مجھ سے ناراض ہے آنحضرت نے فرمایا نہیں اس نے عرض کیا پھر میری جانب آپ توجہ کیوں نہیں فرماتے آپ نے فرمایا کہ میں تجھ کو پہچانتا نہیں ہوں۔

عرض کیا کہ مجھے نہ پہچاننے کی وجہ کیا ہے میں تو آپ کا ہی ایک امتی ہوں جبکہ عالم حضرات کہتے ہیں کہ آپ جناب اپنی امت کو اس سے بڑھ کر پہچانتے ہیں جتنا کے باپ اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے آپ نے فرمایا ہاں انہوں نے درست ہی کہا ہے مگر تو نے مجھے کبھی بھی بذریعہ درود شریف یاد ہی نہیں کیا اور میں درود شریف کے مطابقت میں اپنی امت کو پہچانتا ہوں۔

جس قدر وہ مجھ پر درود شریف پڑھا کرتے ہیں پھر وہ شخص جاگا اور خود پر آئندہ اس نے لازمی قرار دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہر جمعہ کے دن ایک مرتبہ درود پاک بھیجا کرے گا اس نے اپنا یہ وظیفہ جاری رکھا تو پھر اس نے دوران خوآب آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تو آنحضرت نے ارشاد فرمایا میں تجھ کو پہچانتا ہوں اور میں تیری شفاعت کروں گا۔ دراصل اس کا سبب یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محب ہوچکا تھا اور یہ آیت نازل ہونے کا سبب یہ تھا کہ آپ نے یہودی شخص کعب بن اشرف اور اس کے ساتھ والوں کو دعوت اسلام دی دو انہوں نے کہا ہم تو خود اللہ کے بیٹے ہیں اور شدید محب ہیں اللہ کے ان کے جواب کے طور پر جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے یوں ارشاد فرمایا:۔ ( کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو)۔

اہل ایمان کی اللہ تعالی سے محبت ان معنی میں ہے کہ وہ احکام الہی کے اطاعت گزار ہے اطاعت الہی کو ہی ترجیح دینے والے ہیں۔اور اسکی رضا چاہنے والے ہے اور انکے ساتھ اللہ کی محبت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو پسند کرتا ہے اور بہتر اجر عطا کرتا ہے ان کے معاصی بخش دیتا ہے اور اپنی جانب سے ان پر انعامات کرنے لگتا ہے۔ محبت اس علامت سے ظاہر ہوتی ہے کہ محبوب کی فرمابرداری ہو اور اس کی مخالفت نہ کرتا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: