ایک نجوان کی توبہ

ایک نجوان کی توبہ۔ (1)۔ یا الہی اگر میری توبہ کو تو نے قبول فرمایا ہے اور میرے معاصی معاف فرما دیے ہیں تو مجھے فہم اور یاداشت بھی عطا فرما دے مجھے عزت عطا فرما تاکہ میں دینی علوم اور قرآن پاک جو کچھ سنو وہ میں حفظ کر لیا کروں۔ (2)۔ اے میرے اللہ مجھے حسن صوت عطا فرما کہ میری قرات کو ہر سننے والے کا دل اگر سخت ہو تو نرم ہوجائے۔ (3)۔ یا اللہ مجھے تو حلال رزق کی عزت عطا فرما مجھے تو وہاں سے رزق عطا فرما کہ جس کا گمان تک بھی مجھے نہ ہو۔

اس کی یہ تینوں دعائیں اللہ تعالی نے قبول فرمائی وہ ذہنی طور پر خوب تیز ہوا اور جس وقت وہ تلاوت قرآن کرتا تو جو بھی سنتا تھا وہ توبہ کر لیتا تھا نیز ہر روز اسکے گھر میں دو عدد روٹیاں سالن سمیت رکھی ہوتی تھیں اور اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ کون وہاں پر روزانہ رکھتا ہے دنیا سے وہ اسی حال میں رخصت ہوگیا۔ پس اللہ تعالی کی جانب جھکنے والے ہر شخص کا معاملہ اسی طرح ہی ہوتا ہے اللہ تعالی نیک عمل کسی کا بھی ہو ہرگز اسے ضائع نہیں کرتا ہے ایک دفعہ ایک عالم سے کسی نے پوچھا کہ کوئی آدمی اگر توبہ کرتا ہے تو اس کو یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کی توبہ اللہ تعالی نے قبول فرمائی ہے یا کے نہیں۔ تو اس نے جواب دیا کہ اس میں کوئی حکم دینا تو ممکن نہیں ہاں اس کی علامت ہوتی ہے۔

اگر وہ دیکھتا ہے کہ آئندہ گناہ سے محفوظ رہتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کا دل خوشی سے خالی ہوتا ہے اور اللہ تعالی کے سامنے اور نیکیوں کے قریب ہے برے لوگوں سے دور رہتا ہے تھوڑی دنیا کو کافی جانتا ہے اور آخرت کے لیے زیادہ عمل کو بھی تھوڑا ہی گردانتا ہے۔ اور اس کا دل ہمہ وقت اللہ تعالی کے فرائض میں لگا رہتا ہے۔ اور وہ زبان کی حفاظت کرتا ہے ہر وقت فکر کرتا ہے اور سابقہ کئے ہوئے گناہوں پر غمزدہ اور شرمندہ محسوس کرتا ہے وہ جان لے کہ اس کی توبہ قبول ہوچکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: