نیک شخص کی عیادت

اور حضرت ابو علی دقاق رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے ایک نیک شخص کی عیادت کرنے کے لیے میں گیا جب وہ مرض میں مبتلا تھا وہ عظیم بزرگوں میں سے تھا ان کے قریب ان کے شاگرد بیٹھے تھے اور وہ رو رہے تھے اور ان کی عمر شدید بڑھاپے میں تھی۔ میں نے دریافت کیا کہ اے بزرگ رونے کا سبب کیا ہے کیا دنیا پر رونا آ رہا ہے۔ انہوں نے فرمایا نہیں میں تو اس لئے روتا ہوں کہ نماز چھوٹ گئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے رہ گئی ہے۔

آپ تو نماز پڑھ چکے ہیں۔ تو فرمایا میں آج تک دنیا میں رہا ہوں سجدہ تو کرتا رہا مگر غفلت میں کیا اور سر اٹھایا تو وہ بھی غفلت میں اور آج میں مر رہا ہوں تو وہ بھی غفلت میں اس کے بعد انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور کہا: ( میں بعد از عزت اور رفعت قبرستان میں تنہا پڑا ہوا ہوں گا میرا جسم قا بو میں ہوگا اور مٹی میرے لیے تک یہ ہوگا میں نے اپنے لمبے چوڑے محاسبے پر غور کیا ہے اور جب مجھے اعمال نامہ دیا جائے گا اس وقت کی ذلت اور پریشانی کے متعلق سوچا لیکن اے میرے پروردگار تعالیٰ اے میرے پیدا کرنے والے میں تجھ پر امید رکھے ہوئے ہوں کہ اے میرے معبود تو میرے گناہ بخش دے گا)۔

اے برادر اب تو خود ہی سوچ کہ بارگاہ الہی میں کون سے بدن کے ساتھ کھڑا ہوگا اور کس زبان کے ساتھ گفتگو کرے گا جب تجھ سے ہر چھوٹی بڑی بات کے بارے میں پوچھا جائے گا تو کیا جواب ہوگا تیرے پاس تم ہر سوال کا جواب دینے کے لئے تیاری کرو اور درست جواب بھی تیار کر لو اور خوف کرو اللہ تعالی سے جو تمہارے ہر نیک اور بد عمل کو جانتا ہے پھر لوگوں کو ہدایت کی کہ اللہ کا ہر حکم بجا لانا صرف اللہ کے ہی ہوکررہو ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: