ابلیس نمودار ہوا

حضرت یحیی بن زکریا علیہ السلام کے متعلق نقل ہے کہ آپ کے روبرو ابلیس نمودار ہوا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کیا چیزیں ہیں اس نے جواب دیا یہ شہوات ہیں میں ان کے ذریعے کی بنی آدم کو شکار کر لیتا ہوں تو آپ نے فرمایا کیا میں ان میں کچھ میرے واسطے بھی ہیں اس نے جواب دیا کہ نہیں البتہ ایک رات آپ نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا تو میں نے آپ کی طبیعت کو بوجھل کر دیا تھا ۔

آپ نے فرمایا بس آج کے بعد یہ لازم ہوگیا ہے میرے واسطے کبھی سیر شکم نہ ہو ابلیس نے کہا میرے لیے بھی آج سے ضروری ہوچکا ہے کہ انسان کو کبھی نصیحت نہ کروں گا اچھے کام کی۔ قارئین غور کریں کہ یہ ایسے شخص کی صورتحال ہے جس نے صرف ایک مرتبہ ہی رات کے وقت پیٹ بھر کر کھایا تھا تو وہ شخص جو ساری زندگی میں ایک دفعہ بھی فاقہ نہیں کرتا وہ کیسے عبادت کرسکے گا۔ ایک اور جگہ یحیی بن زکریا علیہ سلام کے بارے میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ جو کی روٹی انہوں نے پیٹ بھر کر کھالی تو اس رات میں وہ ورد نہ کر سکے۔

اور سوئے رہے تو اللہ تعالی نے وحی فرمائی کیا میرے گھر سے زیادہ اچھا کوئی گھر تمہیں حاصل ہو گیا ہے یا میرے پڑوس کی نسبت کوئی زیادہ اچھا پڑوس حاصل ہوچکا ہے مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ فردوس پر اگر تم نظر ڈالو پھر ایک نظر دوزخ کو دیکھ لو تم بجائے آنکھوں کے خون رونا شروع کر دو اور بجائے کپڑے کے لوح بدن پر پہن لو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: