بھوک اور نفس

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اپنے دلوں کو بھوک کے ساتھ منور کرونفس کے خلاف بھوک و پیاس کے ذریعے جہاد کرو جنت کے دروازے کو بھوک کے ساتھ ہمیشہ کھٹکھٹانا جاری رکھو کیونکہ اس میں ایسا اجر ہے جو فی سبیل اللہ جہاد کرنے میں ہے اللہ تعالی کو بھوک و پیاس سے زیادہ پسندیدہ عمل دیگر کوئی نہیں ہے اپنا پیٹ جس نے بھر لیا ۔

وہ فرشتوں کے آسمان میں داخل نہیں ہو سکتا اور وہ عبادت کی حلاوت سے بھی محروم ہو گیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے میں جب سے مسلمان ہوا ہوں کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا اس لیے کہ میں پروردگار کی عبادت کی حلاوت حاصل کر لوں اور جس وقت سے میں مسلمان بنا ہوں کبھی سیر ہو کر نہیں پیا ہے کیونکہ میں اپنے رب تعالیٰ سے ملاقات کا مشتاق ہوں۔ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ زیادہ کھانے سے عبادت میں کمی واقع ہو جاتی ہے زیادہ کھائے تو طبیعت بہت بوجھل ہو کر رہ جاتی ہے آنکھوں پر نیند کا غلبہ ہو جاتا ہے اعصاۓ دن بدن سست ہوجاتے ہیں یہ سبب وہ عمل نہیں کر سکتا اور اگر نیند میں ہی خود کو گراۓ رکھے گا تو وہ ایسے ہی ہوگا جیسے کوئی مردہ پڑا ہوا ہے حضرت لقمان حکیم سے منقول ہے کہ آپ نے فر زند کو فرمایا نیند اور کھانا کم کرو اس میں زیادتی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ جو ان دونوں میں زیادتی کرتا ہے روز قیامت اعمال صالح سے خالی دامن ہو گا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اپنے دلوں کو کھانے۔

اور پینے میں زیادتی کر کے مت مارو کیوں کے اس سے دل مردہ ہوجاتا ہے جس طرح کے پانی زیادہ ہو تو اس سے کھیتی مر جایا کرتی ہے اور بعض صالحین سے یوں مثال منقول ہے کہ مادہ مانند ہنڈیا کے ہے اس سے دل ابلنا شروع ہو جاتا ہے اس کی جانب بخارات چڑھتے ہیں اور ان بخارات کی کثرت کے باعثدل میں تکدر اور ظلمت وارد ہو جاتے ہیں زیادہ کھانے سے علم و فہم کا خاتمہ ہوجاتا ہے کیونکہ سیرشکمی سے ذہانت ختم ہوجاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: