بھائی ، بہن کا واقعہ

روایت ہے حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ سے کہ مدینہ کے باشندوں میں سے ایک شخص کی ہمشیرہ مدینہ شریف کی دوسری جانب میں رہتی تھی وہ بیمار پڑ گئی اس کا بھائی ہر روز اس کی عیادت جا کر کرتا تھا حتی کہ وہ فوت ہو گئی اور وہ قبر میں دفن کی گئی تدفین کے بعد وہ شخص واپس آگیا پھر اسے یاد آگیا کہ اس کی ایک تھیلی اس کی قبر میں گر چکی ہے۔

وہ اپنے ساتھ والوں میں سے ایک ساتھی کو اپنے ہمراہ لے کر وہاں قبر پر ایک قبر کو کھولا اور اپنی تھیلی لے لی پھر وہ شخص ساتھی سے کہنے لگا ذرا ہٹو میں دیکھتا ہوں کہ میت کا حال کیا ہے لحد پر سے رکاوٹ کو دور کیا تو اس نے قبر میں آگ لگی ہوئی دیکھی پھر وہاں سے وہ آ گیا اور اپنی ماں سے آ کر دریافت کیا کہ میری بہن کیا کیا کرتی تھی تو ماں نے بتایا کہ وہ اپنے اہل پڑوس کے دروازوں پر جا کر کان لگا کر ان کی گفتگو کو سنتی اور لوگوں سے چغلی کیا کرتی تھی تو اب معلوم ہو گیا ہے کہ وہ عذاب میں ہے پس عذاب قبر سے جو محفوظ رہنا چاہے اس کو غیبت اور چغلی سے خود کو بچانا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: