نماز میں قیام

حضرت خلف بن ایوب رحمہ اللہ علیہ کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ وہ نماز میں قیام پذیر تھے کہ ایک بھیڑ نے ان کو کاٹا خون نکل آیا مگر انہیں معلوم تک نہ ہوا حتی کہ ابن سعید آگئے اور انہوں نے ان کو یہ بتایا تو پھر انہوں نے کپڑے کو دھو یا ان سے کہا گیا کہ جب بھڑ آپ کو کاٹ رہی تھی اور خون بہنے لگا تھا۔

اور آپ کو معلوم تک نہ ہوا یہ کیا معاملہ ہے تو انہوں نے فرمایا جو آدمی ملک جبار کے آگے حاضر کھڑا ہو موت اس کے عقب میں موجود ہو اس کے بائیں جانب دوزخ اور زیر پا پل صراط ہو کیا وہ اس طرح کی باتوں کو جان سکتا ہے؟ حضرت عمرو بن زر رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے ہاتھ پر آگلہ ہو گیا ابن زر بڑے عبادت گزار اور زاہد شخص تھے ان کو اطباء نے کہا کہ ہاتھ کاٹ دینا لازم ہو چکا ہے۔

تو آپ نے فرمایا کہ کاٹ دیں تب انہوں نے کہا کہ ہاتھ جب بھی کاٹا جا سکتا ہے جب آپ کو رسیوں سے باندھ لیا جائے گا تو فرمایا کہ جب میں نماز پڑھنا شروع کر دوں گا تو تم میرے ہاتھ کو کاٹ دینا بس جب انہوں نے نماز پڑھنا شروع کی تو ان کے ہاتھ کو کاٹا گیا اور انہیں معلوم تک نہ ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: