گھر سے باہر آنا

حضرت عمرو بن عبید اپنے گھر سے صرف تین باتوں کے واسطے باہر آیا کرتے تھے۔ 1۔ نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے نکلتے تھے۔ 2۔ کسی بیمار شخص کی بیمار پرسی کرنے نکلتے۔ 3۔ اور یا کسی جنازہ میں شامل ہونے کے لیے نکلا کرتے تھے۔ اور آپ نے فرمایا ہے کہ لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ لوگ اپنی عمر کا عمدہ حصہ چوری کرتے ہیں اور عمر پرڈاکہ زن ہوتے ہیں وہ عمر کی کچھ قیمت نہیں جانتے ان کے لئے مناسب ہے آخر ت کی خاطر خزانہ جمع کر لیتے جو باقی رہنے والا ہے۔

جس کو آخرت کی طلب ہو اس کو دنیاوی زندگی کی طرف راغب نہیں ہونا چاہیے تاکہ وہ صرف ایک فکر میں ہی رہا کرے اور اپنے ظاہر و باطن پر کنٹرول رکھے اس کے بغیر بہتر حال محفوظ نہیں ہو سکتا۔ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے میں شروع شروع میں آنکھوں میں نیند کے غلبے ہونے پر نمک بطور سرمہ ڈال لیا کرتا تھا اس سے معاملہ کچھ آگے بڑھ گیا تو شب بیداری کا اہتمام کر لیا اور اپنی آنکھوں میں نمک ڈال لیا کرتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: