فرعون اوراس کی زوجہ کا واقعہ

حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا فرعون کی زوجہ تھیں اور فرعون سے اپنا ایمان پوشیدہ رکھی تھی جب فرعون کو معلوم ہوا کہ آسیہ ایمان لائے ہوئے ہے تو آسیہ کو سزا دینے کا حکم جاری کر دیا اور کس قسم کی سزائیں دی گئیں اور فرعون ان سے کہتا تھا کہ اپنا دین چھوڑ دو مگر انہوں نے دین اور ایمان ترک نہ کیا بالآخر ان کے بدن میں کیل ٹھونسے گئے اور پھر انہیں دین چھوڑنے کا کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا میرے بدن پر تو قابو پا چکا ہے لیکن میرا دل میرے اللہ تعالی کی حفاظت میں ہے میرے بدن کا ہر عضو بھی اگر کاٹ ڈالو گے تو بھی میرا ایمان اور عشق اور زیادہ ہوگا ۔

حضرت موسی علیہ السلام کا گزر آسیہ رضی اللہ عنہ کے سامنے سے ہوا تو ان کو آسیہ نے آواز دے کر پوچھا کیا میرا پروردگار تعالیٰ مجھ سے ناراض ہے آپ کے راضی ہے تو آپ نے فرمایا اے آسیہ اس وقت آسمانی فرشتے تیرے منتظر ہیں یعنی ان کو تمہارا اشتیاق ہے اور فرشتوں کے سامنے اللہ تعالی فخر فرما رہا ہے اب تو اپنی حاجت طلب کر یعنی اللہ کی بارگاہ میں دعا کر تیری دعا قبول ہو جائے گی پس آسیہ رضی اللہ عنہ نے یوں دعا کی:۔ ( اے میرے پروردگار اپنے پاس میرے واسطے جنت میں ایک گھر بنا اور فرعون اور اس کے عمل سے مجھے چھٹکارا عطا فرما اور ان کی قوم سے مجھے نجات عطا فرما)۔ اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرعون نے اپنی زوجہ آسیہ رضی اللہ عنہ کے بدن پر چار کیل لگائے۔

اور ان کی چھاتی پر چکی رکھی اور اس کا چہرہ آفتاب کی جانب کیا اس نے آسمان کی جانب سر اٹھا کر دعا کی اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ ان کو اللہ تعالی نے خوب نجات دی اور ان کا مرتبہ جنت میں بلند فرمایا وہ جہاں چاہتی ہیں کھاتی پیتی ہے اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنا اور امان الہی کی خواہش کرنا رب تعالیٰ سے دعائے نجات طلب کرنا صالحین کا طریقہ ہے اور یہ راستہ ایمانداری کا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: