منافق اور بخیل شخص

ایک منافق شخص تھا جو بڑا بخیل بھی تھا اپنی زوجہ کو اس نے قسم دی کہ اگر وہ خیرات دے گی تو وہ اس کو طلاق دے دے گا پس ایک مانگنے والا اس کے دروازے پر آیا اور کہنے لگا اے گھر کے باشندو! مجھے فی سبیل اللہ کچھ دو اس کنجوس شخص کی بیوی نے تین روٹیاں دے دیں اچانک اس منافق بخیل سے اس فقیر کا سامنا ہوا تو بخیل نے دریافت کیا کہ کس نے تجھے روٹیاں دیں ہیں تو اس نے بتا دیا کہ مجھے فلاں گھر سے دی گئی ہے۔

منافق نے گھر جا کر اپنی زوجہ کو کہا کیا تجھے میں نے یہ قسم نہیں دی تھی کہ رات کرے تو میں طلاق دے دوں گا عورت نے جواب دیا کہ روٹیاں میں نے فی سبیل اللہ دی ہیں منافق نے تنور کو خوب تپانے کے بعد عورت سے کہا کہ خود کو تو اللہ تعالی کے نام پر اس تنور میں ڈال دے عورت نے اٹھ کر اپنے زیورات پہن لیے تو منافق نے زیورات اتارنے کے لئے کہا تو عورت نے اسے کہا کہ دوست اپنے دوست کی خاطر خود کو مزین کرتا ہے اور میں اس وقت حبیب کے ساتھ ملاقات کرنے والی ہی ہوں پھر اس عورت نے خود کو جلتے تنور کے اندر پھینک دیا۔

ناف کے نیچے تنور کو اوپر سے ڈھانپ دیا اور وہاں سے نکل گیا اور تین روز گزر جانے کے بعد واپس آیا اور تنور کا منہ کھولا تو کیا دیکھتا ہے کہ عورت قدرت خداوندی سے بالکل سلامت ہے وہ حیرت زدہ ہوا تو اس کو غیب سے آواز سنائی دی کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ہمارے دوستوں کو آگ ہرگز نہیں جلاتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: