تصوف فی الحقیقت

ایک شخص دریائے فرات میں غسل میں مشغول تھا اس نے ایک آدمی کی آواز سنی جو اس آیت کی تلاوت کرتا تھا:۔ ( اے مجرمو تم آج ایک طرف علیحدہ ہو جاؤ)۔ اس کے سننے سے اس کو اتنا خوف ہو گیا کہ وہ خوف اور اضطراب کے باعث فوت ہی ہو گیا ۔

حضرت محمد عبداللہ بغدادی نے فرمایا ہے کہ مجھے بصرے کے اندر ایک بلند مکان کی چھت پر ایک نوجوان دکھائی دیا جو نیچے جھانکتا ہوا لوگوں کو کہتا تھا۔ جو آدمی چاہتا ہے کہ عشق میں اسے موت آئے وہ یوں مرے کیونکہ عشق میں بلا موت کچھ خیر نہیں ہے پھر خود کو نیچے گرا دیا جب اس کو اٹھایا گیا تو وہ مر چکا تھا۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے ” تصوف فی الحقیقت اپنی رضا ترک کرنے کا نام ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: