چنڈول کا واقعہ

یہ حکایت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ ہے کہ کسی شخص نے ایک چنڈول کا شکار کرلیا چنڈول کہنے لگا مجھ سے تو کیا برتاؤ کرے گا اس آدمی نے کہا تجھے ذبح کر کے کھا لوں گا اس نے کہا واللہ گوشت کفایت نہ کرے گا نہ بھوک دفع ہو گی البتہ میں تین چیزیں تجھے بتا دیتا ہوں جو کہیں بہتر ہے بہ نسبت مجھے کھانے کے ایک بات اس وقت تجھے بتاؤں گا جب تیرے ہاتھ میں ہوگا دوسری بات میں اس وقت بیان کروں گا ۔

جس وقت میں درخت کے اوپر ہوگا اور تیسری بات میں پہاڑ پر موجود ہوتے ہوئے بتاؤں گا۔ آدمی نے کہا کہ اچھا اب تو مجھے پہلی بات بتا تو اس نے کہا کہ جو کچھ ہاتھ سے جاتا رہے اس پر افسوس نہیں کرنا چاہیے اس آدمی نے اس کو چھوڑ دیا پھر درخت پر جا کر بیٹھا تو دوسری بات بتائی اور کہا کہ جو بات نا ممکن ہو اس کی تصدیق مت کرو کہ وہ ہو جائے گی اس کے بعد وہ اڑ کر پہاڑوں پر جا بیٹھا اور کہا اے بد نصیب آدمی اگر تو مجھے ذبح کر لیتا تو میرے پیٹ میں سے دو عدد موتی برآمد کر لیتاجن میں سے ہر موتی بیس مثقال وزنی ہوتا۔ کہتے ہیں کہ اس شکاری نے تاسف کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو کاٹ لیا پھر کہنے لگا کے اب تیسری بات بھی بتا دو اس نے کہا کہ تو نے دو باتیں فراموش کر دی ہے اب تیسری بات بتانے میں کیا فائدہ ہوگا میں نے تجھے بتایا تھا کہ جو چیز ہاتھ سے نکل جائے۔

اس پر افسوس مت کرو اور نہ ہو سکنے والے بات پر ہرگز یقین نہ کرو میرا گوشت خون اور پر وغیرہ سب کچھ ملا کر بھی بیس مثقال ہونا ناممکن ہے پھر کیوں کر ہو سکتا ہے کہ میرے اندر سے بیس بیس مثقال وزن کے دو موتی موجود ہو اس کے بعد وہ اڑ گیا۔حریص شخص کے لیے یہ مثال کافی ہے۔طمع آدمی کو اندھا کر دیتا ہے وہ درست بات نہیں جان سکتا حتیٰ کہ وہ ناممکن کو ممکن جاننے لگتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: