حکیم اوردنیا

ایک حکیم نے دنیا کی توصیف یوں بیان کی کہ دنیا کا وقت ایک مرتبہ پلک جھپکنے کی مانند ہے جو وقت گزر گیا وہ نہیں تم پکڑ سکتے اور جو وقت ابھی آیا نہیں اس کے بارے میں تجھے کچھ معلوم نہیں ہے کہ کیا ہوگا زمانہ فی الحقیقت آنے والا روز ہے اس کی رات موت کی خبر دیتی ہے اور دن اس کی ساعتوں کو لپٹتا جاتا ہے۔ زمانہ کے حوادث انسان پر وارد ہو کر وہ ختم کرتے جاتے ہیں۔

زمانے کا یہی کام ہے کہ وہ جماعتوں کو بکھیرتا ہے ۔ آبادیاں ملیامیٹ کرتا ہے سلطنت تبدیل کرتا رہتا ہے طول امل قائم کر رکھی ہے جبکہ عمر قلیل ہے حتی کے سارے معاملے اللہ کے پاس جانے والے ہیں۔ حضرت محمد بن حسین رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے جب اصحاب علم و فضل اور ارباب معرفت و ادب جان گئے کہ اللہ تعالی نے دنیا کو بے قدر قرار دیا ہے اور اپنے اولیاء کے حق میں دنیا کو ناپسند فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے زہد فرمایا اس کے فتنے سے محفوظ رہے شدید حاجت ہوتی تھی تو کھاتے تھے زیادہ مقدار میں آخرت کے لیے بھیجتے رہے کفایت کی حد تک ہی انہوں نے لیا باقی کو چھوڑ دیا بقدر حاجت ہی پہنا صرف اتنا تناول کیا جس سے بھوک ختم ہو جائے انہوں نے دنیا کو فانی ہی دیکھا۔

اور آخرت پر متوجہ رہے کہ وہی باقی و دائمی ہے دنیا سے مسافر کی مانند زاد راہ جمع کی دنیا کو انہوں نے برباد کیا اور آخرت کو آباد کر لیا۔ دل کی آنکھوں سے وہ آخرت کی طرف متوجہ دیکھتے رہے وہ جان گئے کہ حقیقت کی نظر سے وہ اس پر نگاہ ڈالیں گے بس ان کی دلی رحلت بطرف آخرت ہے اس لیے کہ ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ انہوں نے جسموں کے ساتھ اس کی طرف چلے جانا ہے تھوڑی تھکن تو ہوئی مگر طویل نعمت پالی اس کی تمام تر توفیق ان کو اپنے مولائے کریم کی طرف سے میسر ہے جس کو اللہ تعالی نے پسند فرما لیا اس کے قلب میں اس کے محبت رکھی اور جس کو اس نے پسند نہیں فرمایا اس کے قلب کے اندر اس کی نفرت رکھ دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: