حضرت حذیفہ مرعشی

روایت ہے کہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کے خادم حضرت حذیفہ مرعشی تھے لوگوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے کونسی بات حیران کن دیکھی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہم مکہ شریف کی طرف جا رہے تھے کہ راہ میں کئی دنوں میں کھانا نہ ملا پھر ہم کوفہ گئے وہاں ایک غیر آباد سی مسجد میں جا بیٹھے۔ حضرت ابراہیم بن ادھم نے میری جانب دیکھتے ہوئے فرمایا اے حزیفہ تجھ پر مجھے بھوک کی علامات دکھائی دیتی ہیں میں نے جواب دیا یہی صورتحال ہے جیسے آپ دیکھ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا قلم دوات اور کاغذ لاؤ میں لایا تو آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم تحریر کرنے کے بعد لکھا:۔ ( تو ہی مقصود ہے ہر حال میں اور ہر شے سے اسی کی جانب اشارہ ہے) اس کے بعد آپ نے یہ اشعار تحریر فرمائے:۔ ( میں حمد کرنے والا ہوں میں شکر کرنے والا ہوں میں ذاکر ہوں میں بھوکا ہوں میں ہلاک ہوا جاتا ہوں میں ننگا ہو)۔

( یہ چھ ہیں اور میں ضامن ہوں ان میں سے نصف کا یعنی تین کا اے باری تعالیٰ اب نصف کا تو ضامن بن جا یعنی تین کا)۔ ( تجھے چھوڑ کر کسی اور کی میں مدح کروں تو یہ شعلہ آتش ہے جس میں میں جاؤ پس پھر اپنے بندے کو آگ سے بچا لے)۔ اس کے بعد آپ نے وہ رقعہ مجھ کو دیا اور فرمایا جاؤ اور بخز اللہ تعالی کے کسی سے اپنا تعلق مت رکھنا اور سب سے اول جس سے تیری ملاقات ہوگی اسے یہ رقعہ دینا میں وہاں سے باہر نکل آیا تو ایک شخص سے ملاقات ہوئی جو خچر پر سوار تھا وہی سب سے قبل ملا تھا میں نے اس کو وہ رقعہ دے دیا وہ لے کر پڑھنے لگا تو رو پڑا اور کہنے لگا کہ اس کا کاتب کہا ہے میں نے بتایا کہ وہ فلاں مسجد میں موجود ہے اس نے مجھے ایک تھیلی دے دی اس کے اندر چھ صد دینار تھے پھر اور ایک سوار کو میں نے پوچھا کہ یہ خچر پر سوار شخص کون ہے تو اس نے کہا یہ عیسائی ہے پھر میں نے حضرت ابراہیم کی خدمت میں آکر یہ واقعہ ان سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو مت چھیڑنا ایک ساعت میں وہ آنے والا ہے پس ایک گھڑی بعد وہ عیسائی وہاں آپہنچا، اندر داخل ہوا۔ حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کے سر پر جھک گیا اور سر کو چوما اور پھر اسلام میں داخل ہوگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: