بادشاہ کسری اوراستاد

نقل کیا گیا ہے کہ بادشاہ کسری نے اپنے بیٹے کے لئے برائے تعلیم ادب ایک استاد رکھ لیا جس وقت بچے نے اچھی طرح سے علم و ادب سیکھ لیا تو ایک دن بچے کو اس کے استاد نے بلا کر کوئی جرم کیے بغیر اور بلا کسی دیگر وجہ کے بچے کو خوب پیتا بچے نے اپنا غصہ استاد کے خلاف دل میں پوشیدہ رکھا جس وقت اس کا والد مرا گیا۔

اور وہ اس کے بعد بادشاہ ہو گیا تو اس نے استاد کو طلب کیا اور اس سے دریافت کیا تم نے فلاں روز مجھے اتنا سخت کیوں پیٹا تھا جب کہ میرا جرم کوئی نہ تھا نہ کوئی دیگر سبب تھا استاد نے جواب دیا اے بادشاہ تو بڑا صاحب کمال اور فضیلت ہوگیا ہے اور میں سمجھتا تھا کہ تو اپنے والد کے بعد بادشاہ بنے گا لہذا میں نے نیت کر لی کہ تجھ کو مار پیٹ اور ظلم کرنے کی تکلیف کا مزہ چکھا دو تاکہ ازاں بعد وہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہ کرے بادشاہ نے کہا تجھ کو اللہ نیک بدلہ عطا فرمائے اس کے بعد اس کو انعام دیا اور اس کو رخصت کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: