حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ایک حسین لڑکا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ان کی نظر ایک حسین لڑکے پر پڑی آپ بھاگ گئے اور اندر داخل ہوگئے دروازے کو بند کیا کچھ دیر ہوئی تو آپ نے پوچھا کیا وہ فتنہ جا چکا ہے یا کہ ابھی نہیں گیا لوگوں نے عرض کیا کہ وہ چلا گیا ہے پھر آپ گھر سے باہر آئے آپ سے پوچھا گیا اے عبداللہ آپ نے ایسے کیوں کیا ۔

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں آپ نے کچھ سماعت کیا ہے تو آپ نے فرمایا ان کی طرف نگاہ ڈالنا حرام ہے ان سے بات کرنا بھی حرام ہے اور ان کے ساتھ بیٹھنا بھی حرام ہے۔ اور قاضی امام رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ایک بزرگ کو میں نے یوں فرماتے سنا تھا کہ ہر عورت کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے جبکہ ہر لڑکے کے ساتھ اٹھارہ شیطان ہوا کرتے ہیں روایت ہے کہ جس شخص نے شہوت سے ایک لڑکے کو بوسہ دیا اس کو پانچ سال تک اللہ تعالی عذاب دے گا اور جس نے کسی عورت کا بوسہ شہوت سے لے لیا اس نے گویا ستر کنواری عورتوں کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرلیا جو ایک کنواری عورت سے زنا کا مرتکب ہو گیا تو گویا وہ ستر ہزار شادی شدہ عورتوں سے زنا کا مرتکب ہو گیا۔ اور رونق التفاسیر میں امام کلبی رحمۃ اللہ علیہ کے قول سے روایت کیا گیا ہے کہ قوم لوط کا کام کرنے والا اولین شخص ابلیس تھا اس پر خدا تعالی کی لعنت ہو وہ ایک حسین ہیجڑہ بن کر ان کے پاس چلا گیا۔

اور خود کے ساتھ بدکاری کرنے کے لئے ان کو راغب کیا پس انہوں نے اس کے ساتھ بدکاری کی پھر وہ ہر مسافر کے ساتھ ایسا کرنے کے عادی بن گئے تو لوط علیہ السلام اللہ تعالی کی جانب سے ان کی طرف بھیجے گئے انہوں نے انہیں اس کام سے باز رہنے کو فرمایا اور اللہ تعالی کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے پر اللہ تعالی کے عذاب کا ان کو خوف دلایا مگر وہ لوگ کہتے تھے کہ اگر واقعی تم سچے ہو تو عذاب وارد کرو بس لوط علیہ السلام نے دعا کی یا الہی میری مدد فرما ان لوگوں کے مقابلے میں آپ نے عرض کیا اے پروردگار اس مفسدوں کے قوم کے مقابلے میں تو میری نصرت فرما تو اللہ تعالی نے آسمان کو حکم دے دیا کہ ان پر پتھروں کی بارش کر برسنے والے ہر پتھر پر اس شخص کا نام درج تھا جسے مارنا مطلوب تھا یہی مطلب ہے اللہ کے علم میں تھا یہ پتھر یا اس کے خزائن میں تھے اور نشان رکھتے تھے اپنے اوپر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: