عرش بھی کانپنے لگا

منقول ہے کہ سب سے بیشتر اللہ تعالی نے جو ہر پیدا فرمایا اس پر اپنی نظر ہیبت ڈالی تو وہ جوہر پگل گیا اور اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے کانپنا شروع ہو گیا بالآخر پانی بن گیا پھر اللہ تعالی نے اس کے اوپر اپنی رحمت کی نظر کی تو اس کا نصف جم گیا اس سے عرش کو پیدا فرمایا عرش نے کانپنا شروع کیا تو اس پر اللہ تعالی نے لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ تحریر فرما دیا تو عرش کو سکون ہوگیا اور پانی تاقیامت تڑپتی حالت میں ہی چھوڑ دیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے( اور اس کا عرش پانی پر تھا)۔

اس کے بعد پانی میں موجیں اٹھنے لگیں لہریں برپا ہوئیں اس سے بخارات اٹھنے لگے اور ایک دوسرے پر تہ در تہ صورت میں اوپر کو چڑھ گئے اور اس کے اوپر جھاگ تھی اس سے اللہ نے آسمان اور زمین کو اوپر نیچے پیدا فرمایا۔ یہ دونوں آپس میں ملے ہوئے تھے تو ان میں ہوا کو بھر دیا اور آسمانوں اور زمین کے طبقے جدا جدا کر دیے۔ اللہ تعالی کی یہ بہت بڑی عجیب اور نرالی کاریگری ہے کہ دھوئیں سے سات آسمان تخلیق فرمائے جبکہ ایک بھی آسمان دوسرے سے مشابہت نہیں رکھتا اور آسمان سے پانی نازل فرمایا اس سے مختلف اقسام کے نباتات اور مختلف رنگوں اور ذائقوں والے پھل پیدا فرما دیے۔

ایسے ہی آدم کی اولاد بھی مختلف فرمائی سفید اور سیاہ اور خوس اور غمزدہ ان میں بھی کچھ مومن ہے کچھ کافر ہے بعض عالم ہے بعض جاھل ہیں جبکہ یہ تمام ہی آدم علیہ السلام کی نسل سے ہی پیدا کردہ ہے پاک ہے وہ ذات جس نے کمال خوبی کے ساتھ ہر ایک مخلوق کو تخلیق فرمایا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: