قیامت کا دن کیسا ہوگا

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے روایت فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے روزآفتاب زمین کے زیادہ نزدیک ہو جائے گا زیادہ لوگوں کو پسینہ آنے لگے گا کچھ کو ایڑیوں تک بعض کو گھٹنوں تک بعض لوگوں کو ان کی رانوں تک کچھ لوگوں کو ان کے کولہوں تک اور بعض کے منہ تک پسینہ آ جائے گا پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ منہ کو لگام دے گا اور کچھ وہ ہونگے جنہیں پسینہ غرق ہی کردے گا اور یوں سر پر ہاتھ کیا۔

پس اے مسکین انسان محشر کے میدان میں اس پسینے اور تکلیف کا سوچ کے کچھ لوگ پکار اٹھیں گے کہ اے پروردگار تعالیٰ ایسی پریشانی اور دکھ سے ہمیں رہا فرما خواہ ہم کو جہنم میں ڈال دے یا الہی ہمیں ایسی صورتحال سے اپنی حفاظت ہی میں رکھنا تو بڑا ہی کریم ہے۔ صورت حال وہ ہے کہ ابھی محاسبہ اعمال نہیں ہوا وہ اصل عذاب ابھی شروع نہیں ہوا تم بھی ان تمام کے ساتھ شامل ہو اور تم کو معلوم نہیں کہ کہاں تک تمہارے پسینہ ہوگا تم ابھی سوچ لو کہ جو پسینہ فی سبیل اللہ مشقت میں نہیں نکلتا حج جہاد روزے صلوۃ اور حاجات مسلم کو پورا کرنے کے لئے چلنے میں اور امر بالمعروف اور انہی عن المنکر کرنے کی محنت میں نہیں بہتا قیامت کے میدان میں ندامت اور خوف کے ساتھ بہہ نکلے گا۔

اور اس میں طویل پریشانی ہے آدمی دھوکہ اور جہالت سے اگر خود بچے تو اس کو معلوم ہو جائے گا کہ عبادات کرتے ہوئے پسینہ بہانہ زیادہ آسان اور تھوڑے وقت کے لئے ہے بجائے قیامت میں اور انتظار والے پسینے کے کیونکہ قیامت کا وہ روز نہایت سخت اور بڑا لمبا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: