حسین رخ اور شیریں زبانیں

حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ کتنے زیادہ لوگ تندرست حسین رخ اور شیریں زبانیں کل دوزخ کے اندر چلا رہے ہوں گے حضرت داؤد علیہ السلام نے دعا کی یا الہی تیرے آفتاب کی تمازت پر مجھے صبر نہیں ہے پھر دوزخ کی حرارت پر کیوں کر صبر کیا جاسکتا ہے تیری رحمت کی صدا پر سننے کا مجھے حوصلہ نہیں ہے تو دوزخ کے عذاب کی صدا پر کیوں کر صبر کیا جا سکتا ہے۔ اے بنی نوع انسان ان حالات کی روشنی میں تو خود ہی اب دیکھ لے اللہ تعالی نے آگ کو اس کی خاص صفات کے ساتھ تخلیق فرمایا ہے اور آگ میں جانے والے بھی پیدا فرمائے ہیں وہ کم یا زیادہ نہ ہونگے یہ امر ہے کہ ہو چکا ہے اور وہ اس سے فارغ ہو چکا ہوا ہے ارشاد خداوندی ہے:۔ ( اور انہیں حسرت والے دن سے ڈراؤ جب امر کا فیصلہ ہوجائے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے)۔

یہاں اشارہ ہے روز قیامت کی طرف بلکہ ازل الازل کی طرف مگر پہلی قضاء و قدر قیامت کے روز ظاہر کی گئی ہے پس اے انسان حیرت ہے کہ تو ہنس رہا ہے کھیلتا ہے دنیا کے حقیر امور میں مستغرق ہے تو نہیں جانتا کہ میرے حق میں فیصلہ فرمایا جا چکا ہے اگر تو یہ کہے کہ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میں نے کس جگہ جانا ہے میرا انجام کیا ہونے والا ہے میرے بارے میں کیا فیصلہ ہو چکا ہے تو اس کا وہ طریقہ ہے جس سے تجھے کچھ امید ہو سکتی ہے اور انس ہوسکتاہے کہ اپنے اعمال و احوال پر دھیان کر کیونکہ ہر شخص کے لیے ایسا ہی آسان ہے جس کی خاطر وہ پیدا کیا گیا ہے۔ اگر خیر کی راہ تجھ پر آسان ہے تو پھر تو خوش ہو کہ دوزخ سے پرے ہیں تو اور اگر تجھ پر خیر کی طرف جانا گراں ہے بخز جکڑ کر لے جانے کے نہیں جاتا ۔

اور نیکی کو دور ہی کرتا ہے اور برائی کی طرف مائل ہے ۔تو تو سمجھ جا کے تیرے خلاف فیصلہ ہوگیا ہے کیونکہ ایسی صورتحال پر خطر انجام کی علامت ہے جس طرح مینہ برسنا علامت ہے نباتات کی اور دھواں علامت ہے آگ کی۔ اللہ کا ارشاد پاک ہے:۔ ( بے شک ابرار لوگ نعمتوں میں ہیں اور بے شک فاجر لوگ یہ جحیم میں ہے)۔ اپنے آپ کو مذکورہ بالا دو آیات کی روشنی میں دیکھ لو کے دارین یعنی جنت اور دوزخ دو گھروں میں سے تمہارا ٹھکانہ کس میں ہے تم کو معلوم ہو جائے گا۔(واللہ اعلم)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: